by Rao Imran Suleman
Rao Nama

دوحہ میں ایرانی منجمد فنڈز کی نگرانی کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کا امریکی اعلان

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک خصوصی آپریشنل سیل قائم کیا جائے گا جو ایران کے منجمد اثاثوں کے استعمال اور نگرانی کے امور انجام دے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے بعض فنڈز کو بنیادی طور پر خوراک اور ادویات کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان رقوم کے استعمال کا مقصد ایرانی عوام کی ضروریات پوری کرنا ہے اور ان کی تقسیم و نگرانی میں امریکی محکمہ خزانہ کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فنڈز کے ایک بڑے حصے سے زرعی اور طبی مصنوعات خریدی جا سکتی ہیں، جبکہ اس عمل کی نگرانی قطر کے ذریعے کی جانے والی مالیاتی سرگرمیوں کے تحت ہوگی۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ تہران نے امریکی زرعی یا دواسازی مصنوعات کی خریداری پر کسی قسم کی رضامندی ظاہر کی ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق منجمد فنڈز کے استعمال سے متعلق فیصلے ایران خود کرے گا اور یہ طے کرے گا کہ رقوم کس مقصد کے لیے خرچ کی جائیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ایران کے بعض اثاثے زرعی اجناس، بشمول مکئی، گندم اور سویابین، کی خریداری کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے مختلف بین الاقوامی پابندیوں کے باعث کئی ممالک میں منجمد ہیں، اور ان فنڈز کے استعمال کا معاملہ طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی مباحث کا حصہ رہا ہے۔

PNP

Comments are closed.