by Rao Imran Suleman
Rao Nama

"جو مجھے اپنی شادی میں بلائیں گی، وہ ہاتھ اٹھائیں”؛ گورنر سندھ کی طالبات سے گفتگو پر تنقید

"طالبات غیر ضروری سوالات پر شرمندہ ہوتی رہیں"

0

ویب ڈیسک:
یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب میں گورنر سندھ نہال ہاشمی کی طالبات سے ہلکے پھلکے انداز میں کی گئی گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی موضوعِ بحث بن گئی۔ اس دوران گورنر سندھ نے طالبات سے کہا، "جو مجھے اپنی شادی میں بلائیں گی وہ ہاتھ اٹھائیں۔”
تقریب کے دوران ہال کے ایک حصے میں موجود متعدد طالبات نے ہاتھ بلند کیے، جس پر نہال ہاشمی نے دوسرے حصے میں بیٹھی طالبات سے مسکراتے ہوئے کہا، "اس سائیڈ سے ہاتھ اٹھ گئے، دائیں سائیڈ والے کنجوس ہیں؟ زور سے بولو، بلاؤ گی نا، بلائیں گی!” اس کے بعد انہوں نے طالبات کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو آباد رکھے۔
بعد ازاں گورنر سندھ نے گفتگو کا رخ ساس بہو کے موضوع کی جانب موڑتے ہوئے کہا، "جو ساس کو اپنی اماں سمجھے گی وہ ہاتھ اٹھا لے، کنجوسی نہ کرو، کیا خوش قسمت ہوگا وہ جوڑا جو ساس کو اماں سمجھے گا۔” اس دوران انہوں نے طالبات سے مزید ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو بھی کی۔
گورنر سندھ کی اس گفتگو کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد حنا پرویز بٹ نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ ایک آئینی منصب پر فائز شخصیت ہیں اور انہیں اپنے منصب اور مرتبے کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔
حنا پرویز بٹ نے کہا کہ یونیورسٹی کی کانووکیشن جیسی باوقار تقریب میں موجود طالبات اس نوعیت کے غیر ضروری سوالات پر شرمندگی محسوس کرتی رہیں، جبکہ گورنر سندھ مسلسل ایک کے بعد ایک ایسے سوالات کرتے رہے جو تقریب کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔


انہوں نے مزید کہا کہ ایسے تعلیمی اور باوقار مواقع پر طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی، ان کی کامیابیوں اور مستقبل کے حوالے سے رہنمائی پر گفتگو ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے تبصروں اور سوالات پر جو انہیں غیر آرام دہ صورتحال سے دوچار کریں۔ حنا پرویز بٹ نے اس طرزِ گفتگو کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی عہدوں پر موجود شخصیات کو اپنے الفاظ اور رویے میں منصب کے وقار کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.