مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا بڑا پیغام، "قاتلوں کو انجام تک پہنچائیں گے”
والد کے قتل کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت ترین بیان، دنیا بھر کے آزاد لوگوں کو بھی پکار لیا
تہران (ویب ڈیسک): ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "انتقام قوم کا مطالبہ ہے اور یہ ہر صورت لیا جائے گا۔”
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ وہ اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہیں اور یہ ذمہ داری صرف ایران ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے "آزاد لوگوں” کی بھی ہے۔

سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے پہلے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ "ہم اپنے شہید قائد اور دونوں جنگوں کے تمام شہدا کے خون کا حساب ان مجرم اور بدنام قاتلوں سے ضرور لیں گے۔”
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سینئر ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو ہونے والے حملے میں چہرے اور جسم کے دیگر حصوں پر زخمی ہوئے تھے، جبکہ 8 مارچ کو سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "ہم موجود ہوں یا نہ ہوں، یہ مقصد ہر حال میں پورا ہوگا اور جلد دنیا کا ہر آزاد انسان اس مقدس مشن میں اپنا کردار ادا کرے گا۔”
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ روک دی گئی تھی، تاہم گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں جانب سے دوبارہ حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
دریں اثنا پاکستان اور قطر ایک بار پھر کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کی ثالثی کے بعد امریکا اور ایران نے عارضی طور پر حملے روک دیے ہیں، جبکہ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔
نوٹ: اس خبر میں شامل بعض دعوے، خصوصاً حملوں، تقرری اور متعلقہ واقعات سے متعلق، غیر ملکی ذرائع سے منسوب ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔