کراچی (پی این پی) کراچی سمیت سندھ بھر میں سرکاری نرخ پر آٹا دستیابی کا بحران برقرار ہے۔
نجی ٹی وی چینل ’’ سماء نیوز‘‘ کے مطابق وفاقی اور سندھ حکومتوں کے گندم پیداوار کے تخمینے غلط ثابت ہوئے۔ شارٹ فال کا اندازہ ہوتے ہی مارکیٹ اسٹیک ہولڈرز حکومتوں سے پہلے متحرک ہوگئے۔
ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ 70 فیصد گندم پیدا کرنے والے پنجاب نے دیگر صوبوں کو ترسیل روک دی گئی ہے۔ گندم اور آٹا مافیا نے صورتحال کا فائدہ اٹھا کر قیمتیں بڑھائیں۔ کراچی میں آٹے کی قیمتیں بڑھنے سے چکی کے آٹے کی قیمت ایک سو ساٹھ روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔
ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی گندم خریداری میں تاخیر سے ذخیرہ اندوزوں کو موقع ملا، تاریخ میں پہلی بار سندھ سے ایک لاکھ ٹن گندم خیبرپختونخوا منتقل ہوئی، سندھ میں بااثر افراد کی جانب سے بڑے پیمانے پر گندم ذخیرہ کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
کراچی سمیت سندھ بھر میں کہیں عوام کو سرکاری نرخ پر آٹا دستیاب نہیں، کراچی میں آٹے کی قیمتیں بڑھ گئیں،چکی کا آٹا 160 روپے فی کلو تک پہنچ گیا۔ آٹا مہنگا ہونے سے کراچی میں روٹی کی قیمت میں بھی 5 روپے اضافہ کردیا گیا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈیڑھ ماہ قبل فروخت ہونے والی 104 والی گندم کا ریٹ 120 روپے پر جا پہنچا تھا۔
PNP
Comments are closed.