by Rao Imran Suleman
Rao Nama

باب المندب بند ہوا تو عالمی تجارت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ماہرین

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے تو وہ یمن میں اپنے اتحادی حوثی گروپ کو بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع اہم آبی گزرگاہ باب المندب بند کرنے کے لیے متحرک کر سکتا ہے۔

باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی تجارت کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی ہے جب ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز بند کر چکا ہے، جہاں سے پرامن حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر باب المندب بھی بند کر دی گئی تو اس کے اثرات صرف جاری جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی مزید متاثر ہوگی، جس سے تیل اور گیس کی قلت میں اضافہ، صنعتی پیداوار میں رکاوٹ، اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ اور دنیا بھر میں ایندھن کی فراہمی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ باب المندب کی ممکنہ بندش عالمی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے اور بین الاقوامی تجارت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

PNP

Comments are closed.