فیفا ورلڈ کپ: نیویارک کے ’لِٹل فلسطین‘ میں شائقین فائنل میں اسپین کی حمایت میں سامنے آ گئے
امریکی شہر نیویارک کے علاقے ’لِٹل فلسطین‘ میں مقیم عرب اور فلسطینی نژاد شہری فٹبال عالمی کپ 2026ء کے فائنل میں ارجنٹینا کے مقابلے میں اسپین کی حمایت کر رہے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق لٹل فلسطین کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسپین کی فلسطین کے حق میں پالیسیوں اور غزہ جنگ پر اسرائیل کے خلاف مؤقف نے اسے عرب برادری میں مقبول بنا دیا ہے۔
بروکلین کے علاقے بے رج میں جہاں بڑی تعداد میں فلسطینی، یمنی، لبنانی اور دیگر عرب برادریاں آباد ہیں، عالمی کپ کے دوران فلسطینی پرچم اور ثقافتی علامات نمایاں طور پر آویزاں کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مقامی رہنماؤں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ نے عرب برادری کے اتحاد اور یکجہتی کو اجاگر کیا ہے۔
عرب امریکن فیڈریشن کے سربراہ 72 سالہ زین رماوی نے کہا ہے کہ ہم اسپین کی حمایت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ یہ ملک فلسطینی نظریے کا حامی ہے، فٹبال اور سیاست کو مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا۔
عرب میڈیا کے مطابق لٹل فلسطین کی مقامی کاروباری شخصیات نے بھی اسپین کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنے اور غزہ کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنے کی وجہ سے عرب برادری کی بڑی تعداد اسپین کے ساتھ کھڑی ہے۔
واضح رہے کہ عالمی کپ 2026ء میں 8 عرب ٹیموں نے حصہ لیا تھا جبکہ مراکش کوارٹر فائنل تک پہنچنے والی سب سے کامیاب عرب ٹیم رہی۔
ٹورنامنٹ کے دوران عرب شائقین نے مختلف عرب ٹیموں کی بھرپور حمایت کی اور فلسطینی پرچم بھی نمایاں طور پر لہرائے گئے۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ بعض شائقین ارجنٹینا کے صدر کے اسرائیل نواز مؤقف کی وجہ سے اسپین کی حمایت کر رہے ہیں تاہم کچھ عرب مداح لیونل میسی کی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے ارجنٹینا کے حامی بھی ہیں۔
نیویارک کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فائنل میں چاہے جو بھی ٹیم کامیاب ہو اس عالمی کپ نے عرب برادری کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
دوسری جانب انتہا پسند اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں ارجنٹینا کی فتح کے لیے دعا گو ہیں۔
PNP
Comments are closed.