بدخشاں میں طالبان مخالف کمانڈر کا سرکاری عمارتوں پر قبضہ
کابل: افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف ایک مسلح گروہ نے ضلع یفتل کے ضلعی مرکز پر چند گھنٹوں کے لیے قبضہ کر لیا، تاہم طالبان سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ واقعہ پنجشیر میں مزاحمتی سرگرمیوں کے بعد پہلا موقع قرار دیا جا رہا ہے جب کسی طالبان مخالف گروہ نے کسی ضلعی مرکز پر عارضی طور پر قبضہ کیا۔
طالبان حکام کے مطابق حملہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اس وقت کیا گیا جب ضلعی انتظامیہ کے بعض اعلیٰ اہلکار رخصت پر تھے۔ سکیورٹی فورسز نے چند گھنٹوں کے اندر کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کر دیا اور صورتحال پر دوبارہ مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔
طالبان حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے “سپاہیانِ میہن” نامی گروہ تھا، جس کی قیادت قیوم خان ملنگ کر رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق قیوم خان ملنگ خود بھی حملے میں شریک تھے۔
طالبان فوج کے چیف آف اسٹاف فصیح الدین فطرت نے کہا کہ ایسے گروہ اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے وقتی کارروائیاں کرتے ہیں، تاہم ان کے بقول وہ طالبان سکیورٹی فورسز کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ابتدائی تحقیقات میں بیرونی عناصر کے ممکنہ کردار کے اشارے ملے ہیں، تاہم اس کی حتمی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
ادھر بدخشاں پولیس نے کہا ہے کہ ضلع یفتل میں صورتحال مکمل طور پر معمول پر آ چکی ہے، علاقے میں سکیورٹی فورسز تعینات ہیں اور اب کسی قسم کا خطرہ موجود نہیں۔
مقامی سیاسی شخصیات کے مطابق قیوم خان ملنگ کا اصل نام عبدالقیوم شکارچی ہے اور وہ بدخشاں کے ضلع یفتل کے کوہ بالا گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد افغانستان کی سابق قومی فوج میں شمولیت اختیار کی، جہاں بنیادی فوجی تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں وہ افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ خصوصی فورسز کے ساتھ طالبان کے خلاف کارروائیوں میں شریک رہے۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد قیوم خان ملنگ نے احمد مسعود کی قیادت میں قومی مزاحمتی محاذ کے ساتھ بھی کام کیا، تاہم بعد میں اختلافات کے باعث اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنی الگ تنظیم “سپاہیانِ میہن” قائم کر لی۔
ذرائع کے مطابق قیوم خان ملنگ نے حملے سے قبل مقامی حکام کو متعدد دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے تھے۔ ان سے منسوب ایک آڈیو پیغام بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں انہوں نے افغانستان کی معاشی صورتحال، غربت اور خواتین کے حقوق سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت پر تنقید کی ہے۔
بدخشاں پولیس کے مطابق واقعے کے بعد کم از کم نو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید دو مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ گرفتار افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں مزید تحقیقات کے لیے کابل منتقل کیا جا سکتا ہے۔
طالبان حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی مکمل طور پر بحال ہے اور ضلع یفتل کا کوئی حصہ طالبان مخالف گروہ کے قبضے میں نہیں ہے، جبکہ واقعے کے دوران سکیورٹی میں غفلت کے ذمہ داروں کا بھی تعین کیا جا رہا ہے۔
PNP
Comments are closed.