by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایران کی افزودہ یورینیم کسی صورت فروخت نہیں کی جا سکتی:عباس عراقچی

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کو نہ دھمکیوں کے ذریعے جھکایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی لالچ کے ذریعے اپنے مؤقف سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی افزودہ یورینیم فروخت کے لیے دستیاب نہیں ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ کسی بھی جنگ یا بحران میں سب سے اہم فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے آغاز کا مناسب وقت کب ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی تنازع کا اختتام یا تو عسکری کامیابی کے ذریعے ممکن ہوتا ہے یا پھر مذاکرات کے ذریعے، تاہم مؤثر مذاکرات اسی وقت کیے جا سکتے ہیں جب متعلقہ فریق خود کو مضبوط پوزیشن میں محسوس کرے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ عوام کی جانوں اور ملک کے مستقبل سے متعلق فیصلے انتہائی احتیاط، مکمل جائزے اور قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جانے چاہییں۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلسل یہ جائزہ لیتی رہے کہ جنگ جاری رکھنے سے کیا فوائد حاصل ہوں گے یا اس کے نتیجے میں انسانی جانوں اور قومی مفادات کو زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔

عباس عراقچی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنے اسٹریٹجک مفادات اور قومی پالیسیوں پر قائم ہے اور اہم فیصلے بیرونی دباؤ کے بجائے ملکی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔

PNP

Comments are closed.