by Rao Imran Suleman
Rao Nama

سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان ری انشورنس کمپنی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی

کراچی(پی این پی)سندھ ہائیکورٹ نے ایم اے جناح روڈ پر واقع پاکستان ری انشورنس کمپنی کی عمارت کی ملکیت کے تنازع سے متعلق، عمارت سیل کیے جانے کے خلاف دائر درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے دی۔
 نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عمارت پاکستان ری انشورنس کمپنی کی قانونی ملکیت ہے اور جائیداد 1959 میں ایک معاہدے کے تحت پاکستان انشورنس کارپوریشن کے نام منتقل کی گئی تھی۔

 وکیل کے مطابق متروکہ وقف املاک بورڈ نے مئی میں کسی پیشگی نوٹس کے بغیر عمارت سیل کر دی، جس سے دفتری ریکارڈ تک رسائی اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔  اس موقع پر عدالت سے عمارت ڈی سیل کرنے اور کمپنی کا قبضہ بحال کرنے کی استدعا کی گئی۔ 

متروکہ وقف املاک بورڈ کے وکیل نے مؤقف دیا کہ مذکورہ عمارت متروکہ وقف املاک کی رجسٹرڈ پراپرٹی ہے، جس سے متعلق 1963 میں گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ 

وکیل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں غیر مجاز قابضین سے ٹرسٹ پراپرٹیز واگزار کرانے کی کارروائی جاری ہے۔ پاکستان ری انشورنس کمپنی کو شوکاز اور قانونی نوٹس جاری کیے گئے، تاہم کمپنی عمارت کی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہی، جس کے بعد قانونی کارروائی مکمل کر کے ایف آئی اے کی معاونت سے عمارت سیل کی گئی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درخواست میں معاہدے کی قانونی حیثیت اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی کارروائی سے متعلق پیچیدہ سوالات شامل ہیں، جن کے فیصلے کے لیے دستاویزی شواہد اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملکیت اور قبضے کے تنازع کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر آئینی درخواست میں نہیں کیا جا سکتا، جبکہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے اقدام کے خلاف اپیل کے لیے قانونی فورم بھی موجود ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو ملکیتی تنازع کے حل کے لیے متعلقہ قانون کے تحت دستیاب قانونی فورم سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔



PNP

Comments are closed.