by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ویسٹ انڈیز کیخلاف دوسری اننگز میں کپتان بابر اعظم 58 رنز بنا کر بھی تنقید کی زد میں

— تصویر بشکریہ کرک انفو

ٹروبا ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم 58 رنز بنا کر بھی تنقید کی زد میں آگئے۔

برائن لارا کرکٹ اکیڈمی ٹروبا میں ویسٹ انڈیز نے جب پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 211 رنز کا ہدف دیا تو تیسرے اوور میں کپتان بابر اعظم کو بیٹنگ کے لیے گراؤنڈ میں اترنا پڑا، کیونکہ پہلی اننگز کے سینچری میکر شان مسعود کی انگلی زخمی تھی۔

امام الحق کے بعد اذان اویس اور سلمان علی آغا 25 کے مجموعی اسکور تک پویلین لوٹ چکے تھے، اس مرحلے پر موجودہ کپتان بابر اعظم اور سابق کپتان وکٹ کیپر محمد رضوان کے درمیان چوتھی وکٹ پر 19 رنز کی شراکت بنی۔

اس دوران بابر اعظم نے 21 گیندوں پر 9 اور محمد رضوان نے 28 گیندیں کھیل کر 11 رنز بنائے، 46 رنز پر 4 وکٹ گرنے کے بعد سینئر بلے باز کی حیثیت سے امید تھی کہ کپتان بابر اعظم زیادہ سے زیادہ اسٹرائیک اپنے پاس رکھتے، لیکن ایسا بلکل بھی نہیں دکھائی دیا۔

ایک اینڈ سے وقفے وقفے سے پاکستان کی وکٹیں خزاں رسیدہ پتوں کی طرح گرتی رہیں اور بابر اعظم حیران کن طور پر سنگل لے کر دوسرے اینڈ پر کھڑے دوسری اننگز میں پاکستان کی وکٹیں گرتے دیکھتے رہے۔

آل راؤنڈر عامر جمال اور پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے علی عثمان اور کپتان بابر اعظم کی شراکت میں بھی بابر اعظم زیادہ تر نان اسٹرائیکر اینڈ پر ہی دکھائی دیے۔

اس بات کا ثبوت بابر اعظم کی جانب سے کھیلنے والی 11 اور دونوں بلے بازوں کی 23 گیندیں ہیں۔

پہلی اننگز کے سینچری میکر سابق کپتان شان مسعود زخمی انگلی کے ساتھ آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرنے آئے تو یہاں بھی بابرا عظم نے آگے آکر کریز سنبھالنے سے گریز ہی کیا۔

دونوں کے درمیان 30 گیندوں کی شراکت میں بابر اعظم اور شان مسعود نے 15,15 گیندیں کھیلیں، بات یہیں ختم نہیں ہوئی، کپتان بابر اعظم نے نویں نمبر پر کھیلنے والے خرم شہزاد اور دسویں نمبر پر آنے والے محمد علی کو ویسٹ انڈین بولرز سے 12 گیندیں کھلوا دیں اور اس دوران وہ خود صرف 2 گیندیں کھیلے۔

بابر اعظم نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا، 107 گیندوں پر 9 چوکوں کیساتھ 58 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، لیکن ان کی بلے بازی کا انداز اور ویسٹ انڈین بولرز سے چھپنے کا سب ہی نے نوٹس لیا۔

بابر اعظم نے جس طرح ٹروبا میں دوسری اننگز میں بیٹنگ کی، اس پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حد تو ہے کہ 28.2 اوورز میں پاکستان کے 9 کھلاڑی 71 رنز پر پویلین لوٹ چکے تھے، شکست سامنے دیوار پر لکھی نظر آرہی تھی۔

دسویں اور آخری وکٹ پر کپتان بابر اعظم اور محمد عباس کے درمیان 12 اوورز میں 49 رنز کی شراکت ہوئی، جس میں محمد عباس کا حصہ 33 گیندوں پر 23 رنز اور کپتان بابر اعظم کا 41 گیندوں پر 21 رنز رہا۔



PNP

Comments are closed.