کےالیکٹرک کی معاونت سے تھر کول بلاک-1 کان کی سالانہ پیداواری استعداد 7.8 ملین ٹن سے بڑھا کر 15.6 ملین ٹن کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ترجمان کےالیکٹرک کا کہنا ہے کہ جامشورو پاور پلانٹ کو 2029 تک درآمدی کوئلے سے مکمل طور پر مقامی تھر کوئلے پر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
جرمن انجینئرنگ کنسلٹنٹ سے کروائی گئی فیزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق منصوبے سے 3.2 ارب ڈالر تک کے معاشی فوائد متوقع ہیں۔
چیئرمین کےالیکٹرک شہریار ارشد چشتی کا کہنا ہے کہ مقامی توانائی وسائل کا زیادہ استعمال سستی بجلی، توانائی کے تحفظ اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پیداواری پورٹفولیو میں بہتری کا حتمی مقصد کراچی کے صارفین کو پائیدار فوائد فراہم کرنا ہے۔
PNP
Comments are closed.