پاکستان کے سابق فاسٹ بولر عثمان شنواری نے کہا ہے کہ پاکستان میں فاسٹ بولنگ کو رفتار کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، حالانکہ مسلسل کرکٹ کھیلنے سے فٹنس کرسٹیانو رونالڈو جیسی ہو تب بھی بولنگ کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان شنواری نے کہا کہ شاہین آفریدی اور نسیم شاہ بڑے بولرز ہیں، انہیں کوئی مشورہ نہیں دے سکتے تاہم شاہین اور نسیم کو منتخب کرکٹ کھیلنی چاہیے، اس سے رفتار برقرار رہے گی، کیریئر طویل ہو گا اور انجریز بھی کم ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں سیریز ہمیشہ پاکستان کے لیے مشکل رہی ہے، موجودہ فارم اور مومینٹم کے ساتھ ٹیم اچھی سیریز کھیل سکتی ہے، ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ٹیم نے مایوس کیا لیکن دوسرے میچ میں بہترین کم بیک کیا، ٹیم میں جتنا تسلسل ہو گا، نتائج بھی اتنے ہی بہتر ہوں گے۔
عثمان شنواری نے بابر اعظم کو دوبارہ کپتان بنانے کے فیصلے کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیم کی قیادت کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک ہی ٹیم کو کینیا، زمبابوے اور آسٹریلیا کے خلاف بھی کھلایا جاتا ہے جو درست حکمتِ عملی نہیں۔
سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ عباس نے گزشتہ میچ میں 125 کی رفتار سے 8 کھلاڑی آؤٹ کیے لیکن رفتار کے چکر میں محمد عباس کے بہترین 3 سال ضائع کیے گئے، رفتار ضروری ہے مگر اسے ضرورت سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔
احسان اللّٰہ کے حوالے سے عثمان شنواری نے کہا کہ انہوں نے گلہ کیا ہے، ان کا مسئلہ ڈسپلن سے متعلق ہے اور اس پر کام ہونا چاہیے۔
عثمان شنواری نے واضح کیا کہ میرا پاکستان ٹیم کی کوچنگ کا کوئی ارادہ نہیں۔
ان کے مطابق کوچز کو بھی کھلاڑیوں کی طرح ایک باقاعدہ نظام کے ذریعے آگے آنا چاہیے کیونکہ پاکستان میں بہت جَلد جیک پاٹ لگ جاتا ہے اور لوگ براہِ راست پاکستان ٹیم کے کوچ بن جاتے ہیں۔
PNP
Comments are closed.