آزاد کشمیر میں ایک برطانوی شہری مارا گیا،دوسرا جیل میں ہے، گارڈین
مظفرآباد: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک برطانوی شہری کی ہلاکت اور دوسرے برطانوی شہری کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق دونوں واقعات حالیہ احتجاجی کشیدگی کے دوران پیش آئے۔
رپورٹ کے مطابق پیٹربورو سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ محمد اختر 9 جون کو کوٹلی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں جاں بحق ہوئے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محمد اختر احتجاج میں شریک نہیں تھے اور مظاہرے کے دوران گھر کے قریب موجود تھے، جہاں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ ہوئی۔
محمد اختر کے کزن محمد سعد نے گارڈین کو بتایا کہ فائرنگ کے دوران اختر کو ایک گولی لگی جو ان کے سینے پر لگی۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں شبہ ہے کہ وہ مبینہ طور پر آوارہ گولی کا نشانہ بنے۔
خاندان کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد مقامی پولیس میں شکایت درج نہیں کرائی گئی، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ معاملے کو اٹھانے کی صورت میں خاندان کو مشکلات یا دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ناٹنگھم سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ برطانوی شہری وقاص عارف کی گرفتاری کا معاملہ بھی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ گارڈین کے مطابق وقاص عارف کو 5 جون کو میرپور میں احتجاجی صورتحال کے بعد حراست میں لیا گیا تھا اور وہ دو ماہ سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں۔
وقاص عارف کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے احتجاج میں براہ راست شرکت نہیں کی تھی۔ ان کی بہن کے مطابق سکیورٹی اہلکار گھر میں داخل ہوئے اور وقاص سمیت ان کے بھائیوں کو حراست میں لے گئے۔
وقاص عارف کی اہلیہ وریشا کمپلوی نے برطانوی حکام سے ان کی رہائی اور قونصلر رسائی کے لیے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق وقاص کو میرپور کی جیل منتقل کیے جانے کے بعد برطانوی حکام کا ان سے براہ راست رابطہ نہیں ہوسکا۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی دفتر خارجہ نے 26 جون کو وقاص عارف کے خاندان کو بتایا تھا کہ قونصلر حکام جیل انتظامیہ سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق جیل انتظامیہ نے وقاص کی صحت تسلی بخش ہونے کی اطلاع دی تھی۔
برطانوی دفتر خارجہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق برطانوی وزرا اور اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
برطانوی حکام نے 7 اگست کو کشمیر سے متعلق اپنی سفری ہدایات بھی اپ ڈیٹ کیں، جس میں متاثرہ علاقوں کے لیے غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ برقرار رکھا گیا ہے۔
گارڈین کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے معاشی اور انتخابی اصلاحات سمیت مختلف مطالبات کے لیے احتجاجی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے پاکستانی حکام پر مظاہرین کے خلاف کارروائی اور متعدد افراد کو حراست میں لینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے حامی عام شہری ہیں، تاہم پاکستانی حکام نے سکیورٹی فورسز پر عائد بعض الزامات کو مسترد کیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ احتجاجی صورتحال کے دوران خطے میں مواصلاتی پابندیوں اور سکیورٹی اقدامات کے باعث حالات مزید حساس ہوگئے تھے۔
برطانوی اخبار کے مطابق محمد اختر کے خاندان نے ان کی ہلاکت کے معاملے کو برطانوی حکام کے سامنے باضابطہ طور پر اٹھانے سے گریز کیا، جبکہ وقاص عارف کے خاندان نے ان کی حراست کے حوالے سے برطانوی دفتر خارجہ سے مدد طلب کی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ اور لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے گارڈین نے دونوں معاملات پر مؤقف جاننے کی کوشش کی، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک پاکستانی حکام کی جانب سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا تھا۔
یہ دونوں واقعات اس وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی و عوامی احتجاج اور سکیورٹی صورتحال پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ مرکوز ہے۔
PNP
Comments are closed.