وفاق کا بانی پی ٹی آئی کے علاج کے عدالتی حکم پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کا علاج شفاء اسپتال سے کرانے کے عدالتی حکم پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کیس کے حوالے سے عدالتی سماعت پر گفتگو کی اور کہا کہ اسپتال منتقلی سے متعلق حکم کا جائزہ لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کے کچھ نکات کا تعلق جیل اتھارٹی اور اسلام آباد انتظامیہ سے متعلق ہیں، جن پر مشاورت ہوئی ہے، قانون کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اتھارٹیز کی تجویز ہے کہ نظر ثانی کے ذریعے اس حکم کی مناسب موڈیفکیشن کی درخواست کی جائے تاکہ بانی پی ٹی آئی کا کسی سرکاری اسپتال سے طبی معائنہ کرایا جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ عدالت کے احکامات کے مطابق کسی بھی ادارے کے طبی ماہرین کو شامل کیا جاسکتا ہے، بنیادی بات یہ ہے کہ کسی قیدی کو نجی اسپتال لے جایا جاتا ہے تو جیلوں میں ہزاروں قیدی ہیں۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے یہ بھی کہا کہ قانون کے مطابق بورڈ یہ فیصلہ کرے گا کہ جیل میں علاج ہوگا یا باہر اسپتال لے جایا جائے گا، بورڈ علاج کے لیے جیل سے باہر منتقل کرے تو سرکاری اسپتال لے جایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک شہادت نہ مل جائے کہ سرکاری اسپتال مطلوبہ علاج سے قاصر ہیں تو ایسے انتظامات نہیں ہوتے، اس وجہ سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آیا کیا یہ حکم تمام جیلوں کے قیدیوں کے لیے ہوگا یا نہیں؟ لیگل ٹیم نے مشاورت کی ہے اور ابہام کو دور کرنے کےلیے عدالت سے رجوع کیا جارہا ہے۔
سپریم کورٹ نے آج کی سماعت کے بعد بانی پی ٹی آئی کو 2 روز میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرکے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بانی کے علاج میں شریک رہنے کی بھی اجازت دی اور اہلِ خانہ کی بانی سے ہفتے میں ایک ملاقات کرانے کہہ دیا۔
PNP
Comments are closed.