by Rao Imran Suleman
Rao Nama

حکومت اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں وقتی ڈیڈ لاک آگیا، بانی سے پوچھ کر فیصلہ کیا جائے گا، اپوزیشن ذرائع

حکومت اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں وقتی ڈیڈ لاک آگیا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قائدین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے ٹیلیفون پر بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے گفتگو کی، جس میں کہا گیا کہ پہلے بانی سے ملاقات ہوگی، پھر کوئی فیصلہ ہوگا، بانی سے ملاقات کے بغیر کوئی اعلان یا فیصلہ ممکن نہیں، اس بات تک محدود رہو کہ بانی سے ملاقات ہوگی تو ہی فیصلہ ہوگا، حکومت کو کہیں بانی سے پوچھ کر آپ کو اس کا فیصلہ بتائیں گے۔

اس سے قبل ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت، اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے، مذاکراتی ٹیموں کی معاہدے کے ڈرافٹ پر مشاورت جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاہدے کا ڈرافٹ تیار کیا جا رہا ہے، تحریری معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے، حکومت کی طرف سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اپوزیشن کی جانب سے صوبائی حکومت کو لانگ مارچ ختم کرنے کے مطالبے سے آگاہ کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کی ملاقات پر حکومت رضا مند ہوگئی، حکومت کی جانب سے کہا گیا پہلے لانگ مارچ کو ختم کیا جائے، بانی سے ملاقات اور بہنوں کی رہائی کا معاملہ پی ٹی آئی کی جانب سے اٹھایا گیا، اپوزیشن نے پی ٹی آئی کے تمام پارلیمٹیرنز اور کارکنان کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

 اپوزیشن رہنماؤں نے بانی کو معاملات کے حل کے لیے راضی کرنے کی یقین دہانی کروائی، اسپیکر قومی اسمبلی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت میں اہم کردار ادا کیا۔

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکراتی عمل کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کر رہے تھے، حکومتی وفد میں محسن نقوی، امیر مقام ،طلال چوہدری، رانا ثنا اللہ شامل تھے، نوید قمر، شیری رحمان، اعجاز جاکھرانی بھی حکومتی وفد کا حصہ تھے۔

اپوزیشن ٹیم میں علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، حلیم عادل شامل تھے۔

اس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات دوسرے دور کا آغاز گلے شکوؤں کے ساتھ ہوا تھا۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے  وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ٹوئٹ کا معاملہ اٹھا دیا، جبکہ حکومت نے مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے اپوزیشن سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ امیر مقام نے کہا ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کے لیے لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کی تھی، آج سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹوئٹ کردیا۔

حکومتی وفد نے پی ٹی آئی سے شکوہ کیا کہ سینئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبا زبان بھی استعمال کی گئی، ایسے میں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟

اپوزیشن نے حکومت کو جواب دیا کہ آپ وزیر دفاع خواجہ آصف کے ٹوئٹ کے بارے میں کیا کہیں گے، کیا وہ درست ہے؟  اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔

حکومتی وفد نے اپوزیشن کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم کھلے دل سے آئے ہیں اور مکمل با اختیار ہیں، پیپلز پارٹی نے کہا کہ لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کریں تاکہ مذاکرات آگے بڑھیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زراری نے حکومت اور اپوزیشن سے مذاکرات کامیاب بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاق خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا آئینی آپشن استعمال کرنے جارہا تھا، لیکن پیپلز پارٹی نے مشورہ دیا کہ آپشن سے پہلے سیاسی حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے، کوشش ہوگی پی ٹی آئی کو قائل کیا جائے کہ وہ لانگ مارچ ختم کردیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی اور دہشت گردی سے متعلق معاملات الگ رکھے کیونکہ جب وہ سیاست پر توجہ دیتے ہیں تو کے پی میں دہشت گردی بڑھ جاتی ہے۔



PNP

Comments are closed.