گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ضم اضلاع پر ٹیکسز کا نفاذ ظلم ہے، وفاق کو اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
’جیو نیوز‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ضم اضلاع کی صنعت پر ٹیکس عائد کرنے سے پہلے وہاں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا جائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ضم اضلاع کی صنعت کو لاہور، فیصل آباد اور کراچی جیسی سہولتیں حاصل ہیں؟
گورنر نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں ضم اضلاع کے صنعت کار ٹیکسز ادا نہیں کریں گے، ضم اضلاع حالتِ جنگ میں ہیں اور یہاں کے صنعت کار اپنا کاروبار پنجاب منتقل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم سے ملاقات میں ضم اضلاع پر ٹیکسز کے نفاذ کا معاملہ اٹھاؤں گا، صوبائی حکومت نے ضم اضلاع پر ٹیکسز ختم کر کے وفاق پر اخلاقی برتری حاصل کر لی ہے۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق وفاق نے 2018ء میں ضم اضلاع میں 10 سال تک سالانہ 100 ارب روپے خرچ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن 9 سال گزر گئے اور وفاق نے وعدے کے مطابق 50 فیصد فنڈز بھی نہیں دیے، ضم اضلاع کے لیے جاری فنڈز کہاں اور کیسے خرچ ہوئے؟ صوبائی حکومت کو اس کا جواب دینا ہو گا۔
گورنر کے پی نے خیبر پختون خوا پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے شہداء اور قربانیاں دینے والے اہلکار سول اعزازات کے مستحق ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سپاہی سے اعلیٰ افسر تک شہادتیں دینے والوں کو اعزازات نہ دینا قابلِ افسوس ہے، سول اعزازات عظیم قربانیوں کے اعتراف کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
گورنر خیبر پختون خوا نے سوال اٹھایا کہ کیا وفاق کا پیغام یہ ہے کہ قربانیاں دینے والے ہمارے صوبے کے لوگ پاکستانی نہیں؟
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بعض ایسے افراد کو بھی تمغے دیے گئے جن پر وہ تبصرہ نہیں کرنا چاہتے، سول اعزازات پر سب سے پہلا حق شہادتیں دینے والوں کا ہے، عظیم قربانیاں دینے والوں کو اعزازات دینا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
PNP
Comments are closed.