by Rao Imran Suleman
Rao Nama

اوکیناوا میں امریکی فوجیوں پر ایک ماہ کا کرفیو نافذ

جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں ایک جاپانی خاتون کی ہلاکت کے واقعے کے بعد وہاں تعینات امریکی میرینز پر ایک ماہ کے لیے کرفیو اور شراب نوشی کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق 20 سالہ امریکی میرین لانس کارپورل ڈیون جیکب بالارڈ پر الزام ہے کہ اس نے اوکیناوا کے دارالحکومت ناہا کے ایک ہوٹل میں 39 سالہ جاپانی خاتون انا یاگی کو قتل کیا اور ان کا پرس اور بیگ بھی لے گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے الزامات مسترد کیے ہیں۔

واقعے کے بعد امریکی فوج نے اوکیناوا میں موجود اہلکاروں کو ایک ماہ تک کرفیو کی پابندی کرنے اور شراب نوشی سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق جزیرے میں تمام امریکی فوجی آپریشنز 48 گھنٹے کے لیے معطل کرکے اہلکاروں کو نظم و ضبط اور فوجی طرز عمل سے متعلق خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔

امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بینجمن واٹسن نے کہا کہ مقامی آبادی کے ساتھ امریکی فوجیوں کا ہر رابطہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط یا کمزور کرسکتا ہے، جبکہ اعتماد کو نقصان پہنچنے سے امریکا جاپان اتحاد اور علاقائی سلامتی متاثر ہوسکتی ہے۔

جاپانی وزیراعظم سائیں تاکائیچی نے واقعے کو انتہائی سنگین اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے امریکا سے احتجاج کیا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

جاپانی میڈیا کے مطابق پولیس کو ابتدائی طور پر بتایا گیا کہ خاتون کی موت دم گھٹنے کے باعث ہوئی۔ ہوٹل کے عملے نے انہیں کمرے میں بے ہوش پایا، جب وہ مقررہ وقت پر چیک آؤٹ کرنے نہیں پہنچیں۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مشتبہ شخص تک رسائی حاصل کی، جس میں اسے خاتون کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا۔

واقعے کے بعد اوکیناوا اور ٹوکیو میں احتجاج بھی ہوئے، جہاں مظاہرین نے امریکی فوجی موجودگی اور جنسی تشدد کے خلاف نعرے لگائے۔

اوکیناوا میں امریکی فوجی اڈوں اور اہلکاروں کی موجودگی طویل عرصے سے مقامی سطح پر حساس معاملہ رہی ہے۔ شور، فوجی طیاروں کے حادثات اور بعض فوجیوں پر جرائم کے الزامات کے باعث ماضی میں بھی احتجاج ہوتے رہے ہیں۔

اوکیناوا تائیوان کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے جاپان اور امریکا کے لیے دفاعی اعتبار سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ جزیرے پر امریکی میرینز کی بڑی تعداد تعینات ہے، تاہم مقامی آبادی کی جانب سے طویل عرصے سے فوجی اڈوں اور اہلکاروں کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

PNP

Comments are closed.