سابق بھارتی کرکٹر جیکب مارٹن کو پٹیالہ ہاؤس عدالت نے 22 سال پرانے فوجداری مقدمے میں تمام الزامات سے بری کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جیکب مارٹن پر یہ مقدمہ 2004ء کی ایک ایف آئی آر سے متعلق تھا جس میں جعلسازی، دھوکہ دہی، جعلی دستاویز کے استعمال، مجرمانہ سازش اور پاسپورٹ ایکٹ کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔
جیکب مارٹن پر برطانیہ کے جعلی امیگریشن اسٹیمپ، سفری انتظامات اور مالی لین دین سے متعلق الزامات تھے تاہم استغاثہ انہیں قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت نہ کر سکا۔
بھارتی عدالت نے قرار دیا ہے کہ مالی لین دین یا اسپورٹس کلب کی ملکیت اور انتظام میں مارٹن کے کردار کے خلاف کوئی قابلِ اعتبار ثبوت موجود نہیں جبکہ متعدد گواہ بھی الزامات کی تصدیق نہیں کر سکے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت کے فیصلے کے بعد جیکب مارٹن کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔
جیکب مارٹن نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ 2004ء میں میری ٹیم برطانیہ کھیلنے گئی تھی جہاں ایک کھلاڑی نے 6 ماہ کی ویزا مدت ختم ہونے کے باوجود برطانیہ میں قیام کیا، بعد ازاں وہ کھلاڑی جعلی امیگریشن اسٹیمپ کے ذریعے بھارت واپس آنے کی کوشش کے دوران گرفتار ہوا۔
مارٹن کے مطابق اصل ایف آئی آر میں میرا نام شامل نہیں تھا تاہم تحقیقات کے دوران مجھے اس مقدمے میں شامل کر لیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹر ہونے کی وجہ سے میرا نام نمایاں ہونے کے باعث مجھے مقدمے میں گھسیٹا گیا۔
جیکب مارٹن نے کہا کہ 22 سال تک جاری رہنے والے مقدمے کے باعث مجھے شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور میری ریلوے کی ملازمت بھی چلی گئی، عدالت سے بریت کا فیصلہ میری زندگی میں ایک بڑا موڑ اور طویل انتظار کے بعد بڑی راحت ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جیکب مارٹن دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے تھے اور انہوں نے بھارت کی جانب سے 10 ایک روزہ میچ کھیلے جن میں 158 رنز بنائے۔
PNP
Comments are closed.