سندھ میں پالتو بلی کا پہلا سائنسی پوسٹ مارٹم، ویٹرنری تشخیص میں اہم پیش رفت
کراچی(پی این پی)سندھ اینیمل ڈیزیز سرویلنس سینٹر نے ویٹرنری صحت، بیماریوں کی نگرانی اور سائنسی تحقیق کے شعبے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے سندھ میں پہلی مرتبہ ایک پالتو بلی کا باقاعدہ سائنسی پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا۔
سائنسی پوسٹ مارٹم دو ماہ کی پرشین بلی ”لیوناڈاس” کا کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران پھیپھڑوں میں پانی، جگر کے بڑھنے کی علامات، پیٹ میں خون جمع ہونے اور مدافعتی ردعمل کے شواہد سامنے آئے۔ تفصیلی سائنسی جائزے کے بعد ماہرین نے بلی کی موت کی وجہ غیر مطابقت رکھنے والے خون کی منتقلی کو قرار دیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کامیاب سائنسی پوسٹ مارٹم کو صوبے میں ویٹرنری میڈیسن کے شعبے میں اہم پیش رفت اور بریک تھرو قرار دیتے ہوئے محکمہ لائیو اسٹاک کے افسران اور ماہرین کو مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ویٹرنری شعبے کو سائنس، جدت اور جدید ادارہ جاتی نظام کے ذریعے مضبوط بنا رہی ہے، جبکہ پالتو جانوروں سمیت مویشیوں کے لیے جدید تشخیصی سہولیات کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ اینیمل ڈیزیز سرویلنس سینٹر بیماریوں کی نگرانی، بروقت تشخیص اور شواہد پر مبنی علاج میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ جدید ویٹرنری تشخیصی مراکز جانوروں کی بہبود کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سائنسی ویٹرنری سہولیات کے قیام سے جانوروں کے مالکان کا پیشہ ورانہ علاج پر اعتماد بڑھے گا اور سندھ ویٹرنری تشخیص اور جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی کے شعبے میں قائدانہ حیثیت کی جانب گامزن ہوگا۔وزیر لائیو اسٹاک محمد علی ملکانی نے کہا کہ سندھ میں ویٹرنری لیبارٹریز اور سائنسی صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنایا جارہا ہے۔ جانوروں کی صحت کو درپیش نئے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے سائنسی صلاحیتوں میں اضافہ ضروری ہے۔سیکریٹری لائیو اسٹاک کاظم جتوئی نے وزیراعلیٰ کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پالتو بلی کے پوسٹ مارٹم نے سندھ میں جدید اور شواہد پر مبنی ویٹرنری نظام کی صلاحیت ثابت کردی ہے۔
ویٹرنری اداروں کی استعداد کار بڑھانے سے صوبے میں جانوروں کی صحت سے متعلق خدمات مزید بہتر ہوں گی۔چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ صوبے میں ویٹرنری تشخیص اور جانوروں کی بہبود کے حوالے سے نیا معیار قائم ہوا ہے۔ جانوروں کی صحت کی خدمات کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ماہر ویٹرنری ٹیم کے سربراہ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ ٹیم کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے باعث یہ اہم کامیابی ممکن ہوئی۔ سندھ حکومت کی جانب سے جدید ویٹرنری تشخیصی نظام کے فروغ سے جانوروں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور بہتر علاج میں مدد ملے گی۔
PNP
Comments are closed.