by Rao Imran Suleman
Rao Nama

لارڈز ٹیسٹ میں محمد رضوان، سلمان آغا کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ

ہیڈنگلے لیڈز میں انگلینڈ کے ہاتھوں اننگز اور 103رنز سے شکست کے بعد قومی ٹیم کے سینئر کھلاڑی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ٹیم مینجمنٹ لارڈز ٹیسٹ میں سابق کپتان تجربے کار وکٹ کیپر محمد رضوان کی جگہ غازی غوری کو ٹیسٹ ڈیبیو کروا رہی ہے اور لیڈز میں بابر اعظم کی عدم موجودگی میں قیادت کرنے والے سلمان علی آغا کو لاڑدز ٹیسٹ کی ٹیم میں شامل نہیں کیا جائیگا۔

البتہ اطلاعات کے مطابق جمعرات سے لارڈز پر شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم میں دونوں ہی شامل ہوں گے۔

46 ٹیسٹ کھیلنے والے 34 سال کے محمد رضوان کے ساتھ 28 ٹیسٹ کھیلنے والے 32 سال کے سلمان علی آغا 11 رکنی ٹیم میں شامل ہوں گے جبکہ ٹیسٹ کپتان بابر اعظم کی ایک میچ کی غیر حاضری کے بعد ٹیم میں شمولیت کے نتیجے میں 30 سال کے سعود شکیل جنھوں نے لیڈز ٹیسٹ میں 5 اور 14 رنز کی اننگز کھیلی تھی، انہیں ڈراپ کیا جائے گا۔

لیڈز میں 5/95 کی کارکردگی کے بعد اس بات کا قوی امکان تھا کہ پاکستان 16 ٹیسٹ میں 28 اعشاریہ81 کی اوسط سے 77 وکٹ لینے والے خیبر پختونخواہ کے 32 سال کے دائیں ہاتھ کے اسپنر ساجد خان کو بطور دوسرا اسپنر لارڈز میں میدان میں اتارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

تاہم کپتان بابر اعظم نے پریس کانفرنس میں خلاصہ کیا کہ علی عثمان کے ساتھ دوسرے اسپنر کی حیثیت سے سلمان علی آغا ان کی پہلی چوائس ہیں۔

کپتان بابر اعظم کی ٹیم میں شمولیت کے بعد دوسری تبدیلی ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپن ٹرینیڈاڈ میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنیوالے عبید شاہ ہوں گے، جنھیں خرم شہزاد کی جگہ کھلانے کی تجویز زیر غور ہے۔



PNP

Comments are closed.