by Rao Imran Suleman
Rao Nama

گل پلازہ آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ جاری، سانحے کی ذمہ داری اجتماعی نظام کی ناکامی قرار

کراچی (پی این پی) گل پلازہ آتشزدگی کی انکوائری کیلیے قائم کمیشن کی رپورٹ جاری کر کے ذمہ داروں کا تعین کر دیا گیا۔ رپورٹ میں سسٹم کی اجتماعی ناکامی اور یکے بعد دیگرے آنے والی صوبائی و بلدیاتی حکومتوں کی مجموعی ناکامی قرار دی گئی۔رپورٹ میں  جسٹس آغا فیصل نے رپورٹ میں مصطفیٰ زیدی کا شعر بھی شامل کیا ہے’’ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں۔۔۔تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے‘‘
اے آر وائی نیوز کےمطابق انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں 72 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، آگ لگنے کے وقت بیشتر راستے بند یا رکاوٹوں سے متاثر تھے، 16 میں سے زیادہ سے زیادہ 2 سے 4 راستے کھلے تھے، کھڑکیاں گرلوں، سامان اور دیگر رکاوٹوں سے بند تھیں، فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹر اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا، ہائیڈرینٹ، ہوز ریل اور فائر پمپ سمیت بنیادی نظام غائب تھا، فائر سیفٹی کی خامیوں کی نشاندہی کے باوجود انتظامیہ نے اصلاحی اقدامات نہیں کیے، انتظامیہ نے فائر سیفٹی آڈٹ کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا۔

انکوائری کمیشن میں کہا گیا کہ غیر رجسٹرڈ مینجمنٹ کمیٹی نے عمارت کے انتظام اور فیصلوں پر عملی کنٹرول رکھا، گل پلازہ کے مالکان، قابضین اور کمرشل آپریٹرز بھی ذمہ داری سے بری نہیں، آگ لگنے سے قبل فائر سیفٹی کی سنگین خامیاں موجود تھیں، آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا قرار دیا گیا، دکان نمبر 193 میں ماچس جلنے سے آگ لگنے کا مؤقف سامنے آیا۔

فرانزک رپورٹ نہ ہونے کے باعث کمیشن نے آگ لگنے کی وجہ کی حتمی تصدیق نہیں کی، گل پلازہ میں پلاسٹک، ربڑ، میلامین، کپڑے اور دیگر آتش گیر سامان کا بھاری ذخیرہ موجود تھا۔ آتش گیر سامان نے آگ کو تیزی سے بے قابو ہونے میں کردار ادا کیا، پہلی فائر ٹینڈر کی مؤثر آمد رات 10 بج کر 40 منٹ پر ہوئی، آگ تقریباً 10 بجے لگی فائر بریگیڈ تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد مؤثر طور پر پہنچی، فائر بریگیڈ کا اپنا مقررہ رسپانس کا وقت 6 سے 7 منٹ تھا، بروقت ریسکیو کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔

گل پلازہ میں ابتدائی مرحلے میں پانی کی فراہمی مؤثر اور مسلسل نہ ہو سکی، اس میں مزید کہا گیا کہ ریسکیو 1122 نے دستیاب وقت کو بڑے پیمانے کے ریسکیو آپریشن میں تبدیل نہیں کیا، بجلی کی قبل از وقت بندش نے گل پلازہ میں ریسکیو اور انخلا مزید مشکل بنا دیا، بجلی بند ہونے سے عمارت میں اندھیرا چھا گیا، ریسکیو کے امکانات متاثر ہوئے، گل پلازہ میں ابتدائی مرحلے میں پانی کی فراہمی مؤثر اور مسلسل نہ ہو سکی، پانی کی مؤثر مسلسل فراہمی آدھی رات کے بعد بہتر ہوئی، ریسکیو 1122 کی کارروائی میں دستیاب ریسکیو مواقع پوری طرح استعمال نہیں کیے گئے۔

چھت اور بیرونی راستوں سے ریسکیو کے مواقع موجود تھے، رضاکاروں نے گرِلیں توڑ کر لوگوں کو گل پلازہ سے نکالا۔ ابتدائی ریسکیو کے دوران سانس لینے کے آلات اور دیگر خصوصی سامان کی کمی تھی، اسنارکل سمیت خصوصی ریسکیو آلات کا بروقت اور مؤثر استعمال نہیں ہو سکا۔

انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق کے ایم سی فائر بریگیڈ بروقت اور مؤثر فائر فائٹنگ نہ کر سکی، اس کے پاس وسائل ہونے کے باوجود ابتدائی مرحلے میں پانی کی مؤثر فراہمی یقینی نہ بن سکی، سول ڈیفنس نے خامیوں کی نشاندہی کی مگر مؤثر قانونی کارروائی نہ کی، سول ڈیفنس کی 2024 اور 2025 کی رپورٹس میں گل پلازہ کی سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ اور ضلعی انتظامیہ فائر سیفٹی آڈٹ میکنزم نافذ کرنے میں ناکام رہے، ایس بی سی اے گل پلازہ میں مسلسل فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہا۔

ریسکیو 1122 نے دستیاب ریسکیو ونڈو کو مؤثر اور مربوط حکمت عملی میں تبدیل نہیں کیا۔ ریسکیو 1122 پانی کی بروقت فراہمی میں مؤثر رابطہ کاری نہ کر سکا۔ گل پلازہ میں برقی حفاظتی معائنہ کبھی نہیں کیا گیا۔ الیکٹریکل سیفٹی کی نگرانی کا نظام گل پلازہ کے معاملے میں مکمل طور پر غیر مؤثر رہا۔ گل پلازہ سانحہ صرف آگ کا نتیجہ نہیں بلکہ تاخیر، اندھیرے، بند راستوں اور ادارہ جاتی ناکامی کا نتیجہ تھا، ریسکیو میں ہر ضائع ہونے والے منٹ نے زندہ بچنے کے امکانات کم کیے، قانونی اختیارات، آڈٹ اور ریسکیو نظام موجود تھے مگر پورا نظام کام نہ کر سکا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سانحہ گل پلازہ معلوم خطرات، ناقص انتظام، کمزور عملدرآمد اور ناکافی ریسکیو کا مجموعہ ہے، لوگ صرف آگ سے نہیں بلکہ تاخیر، اندھیرے، بند راستوں اور غیر مؤثر نظام سے جان سے گئے، گل پلازہ کے ریگولیرائزڈ پلان میں 1102 دکانیں لیکن حقیقت میں 1153 دکانیں تھیں، سانحہ مسلسل صوبائی و بلدیاتی حکومتوں کی مجموعی ناکامی ہے۔



PNP

Comments are closed.