کراچی (پی این پی) کراچی میں عدالت نے پانچ سال قبل گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والی بچی کے والدین کو ڈیڑھ کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ’’اے آر وائی نیوز‘‘ کے مطابق کراچی کی عدالت نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ رقم کی ادائیگی تیس دن کے اندر کردی جائے، درخواست میں واٹر بورڈ اور حکومت سندھ کو فریق بنایا گیا تھا۔
وکیل نے کہا کہ 8 سالہ حبیبہ گھر سے باہر کھیلنے گئی اور دو دن بعد بچی کی لاش گٹر سے ملی جس پر ڈھکن موجود نہیں تھا۔
واضح رہے کہ بچی کے جاں بحق ہونے کا واقعہ 2021 میں پیش آیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ 8 ماہ میں کراچی کے مختلف علاقوں میں 15 بچے مین ہول میں گر کر جبکہ 13 افراد کھلے نالوں میں گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
گلی کے اندر کھلا مین ہول تھا اور چھوٹے بچے گلی میں کھیل رہے تھے، 8 سالہ بچہ دلبر اسی دوران مین ہول میں گرا جبکہ گٹر کا پانی بھی بالکل اوپر تک آیا ہوا تھا۔
گٹر غلاظت سے بھرا ہوا تھا، ایسے میں بچے کے بچنے کے امکانات بہت کم تھے، اس سانحے کے باوجود موقع پر ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر سمیت انتظامیہ کا کوئی بھی شخص نہ پہنچا۔
PNP
Comments are closed.