by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایس سی او ابھرتی کثیر قطبی دنیا کا بااثر مرکز بن چکی ہے:صدر پیوٹن

بشکیک: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) نے گزشتہ 25 برسوں کے دوران نمایاں ترقی کی ہے اور اب یہ ابھرتی ہوئی کثیر قطبی عالمی دنیا میں ایک خودمختار اور بااثر مرکز کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔

بشکیک میں ایس سی او سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے تنظیم کے قیام اور اس کے ارتقائی سفر پر روشنی ڈالی۔

ولادیمیر پیوٹن کے مطابق ایس سی او کا قیام 2001 میں روس، چین، قازقستان، تاجکستان، کرغزستان اور ازبکستان کی مشترکہ کوششوں سے عمل میں آیا تھا۔ تنظیم نے قیام کے بعد مسلسل توسیع اور مضبوطی کی اور وقت کے ساتھ اس کا عالمی کردار بھی بڑھتا گیا۔

روسی صدر نے کہا کہ آج ایس سی او عالمی سطح پر ایک اہم اور مؤثر پلیٹ فارم بن چکی ہے، جو صرف یوریشیا تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا کی بڑی علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس سی او کی بڑھتی ہوئی اہمیت عالمی نظام میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے اور اس نئے عالمی منظرنامے میں ایس سی او ایک آزاد اور مؤثر مرکز کے طور پر اپنا کردار ادا کررہی ہے۔

پیوٹن کے مطابق تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس سے عالمی معاملات میں ایس سی او کی اہمیت اور اثر و رسوخ مزید مضبوط ہوا ہے۔

PNP

Comments are closed.