کئی ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد ایرانی جزیرے پر امریکی حملہ، تہران نے اردن پر میزائل داغے
تہران: کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے نسبتاً سکون کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی افواج نے ایران کے لارک جزیرے پر حملہ کر کے دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے اردن میں دو فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب لارک جزیرے پر امریکی کارروائی جولائی کے اواخر کے بعد ایران کے خلاف امریکہ کا پہلا براہ راست حملہ ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست فوجی تصادم میں کمی آئی تھی اور جنگ ایک طرح کے تعطل کا شکار دکھائی دے رہی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں لے جانے کے لیے راکٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام، نے کہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی محدود اور انتہائی درست تھی اور اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو درپیش فوری خطرے کو ختم کرنا تھا۔
سینٹ کام نے پاسدارانِ انقلاب کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ امریکی کارروائی جارحیت تھی۔ امریکی کمانڈ کے مطابق خطرہ ایرانی فورسز نے خود پیدا کیا تھا اور امریکی فوج نے شہری ملاحوں، تجارتی جہازوں اور عالمی تجارت کے آزادانہ بہاؤ کے تحفظ کے لیے کارروائی کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بحری بارودی سرنگیں یا تو ناکارہ بنا دی گئی ہیں یا امریکی فورسز نے قبضے میں لے لی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ کوئی بھی جہاز یا کشتی نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرے گی تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
سینٹ کام کے ترجمان ٹم ہاکنز نے کہا کہ امریکی فورسز نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی گزرگاہوں سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام مکمل کر لیا تھا۔ ان کے مطابق امریکی فورسز علاقے کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں اور آبنائے ہرمز میں تجارت کے آزادانہ بہاؤ کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے لارک جزیرے پر امریکی حملے کے جواب میں اردن کے کنگ حسین اور الازرق ایئربیسز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق دونوں اڈوں پر تکنیکی اور مرمتی تنصیبات کے علاوہ جنگی طیاروں کی تعیناتی کے مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا اور حملوں میں ’شدید نقصان‘ پہنچا۔
تاہم اردن کی فوج نے ایرانی دعوے کے برعکس کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے پیر کی صبح اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ میزائلوں کو روک لیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید خبردار کیا ہے کہ ایران پر کوئی نیا حملہ ہوا تو اس کا جواب ’مزید تباہ کن کارروائیوں‘ سے دیا جائے گا۔ ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ لارک جزیرے پر امریکی حملہ اسلامی جمہوریہ ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو کمزور نہیں کر سکتا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو تقریباً چھ ماہ ہو چکے ہیں اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور بین الاقوامی بحری آمد و رفت کو جاری رکھنے کا معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کی اہم وجہ بنا ہوا ہے۔
جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر سمیت مختلف ممالک کی ثالثی میں سفارتی کوششیں بھی جاری رہی ہیں، تاہم اب تک کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی جاری رکھی ہوئی ہے، جس کے باعث ایران میں ایندھن کی فراہمی پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات ہیں جبکہ مقامی پیداوار کی کمی بھی صورتحال کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔
PNP
Comments are closed.