یمن میں حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 140 سے زائد فوجی ہلاک
صنعا:یمن میں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ سنیچر کی سہ پہر سے اتوار کی صب تک جنوب مغربی یمن میں حکومتی افواج اور ایران کے اتحادی حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں دونوں جانب سے 140 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے۔
اے ایف پی کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے دو فوجی عہدیداروں نے بتایا کہ ان کی افواج کے 84 اہلکار ہلاک ہوئے جن میں سے زیادہ تر حوثیوں کے میزائل حملوں کا نشانہ بنے۔
حوثیوں کے چار فوجی ذرائع نے بھی بتایا کہ اسی عرصے کے دوران ان کے 57 جنگجو ہلاک ہوئے۔
بحیرہ احمر کے داخلی راستے ’باب المندب‘ پر کنٹرول کے لیے یمن میں حالیہ جھڑپیں گذشتہ دو ماہ کے دوران سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوئی ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب حوثیوں اور یمنی حکومتی افواج کے درمیان 2022 کا جنگ بندی معاہدہ ٹوٹ گیا تھا۔
حوثیوں نے جمعرات کو ایک حملہ کیا جس کا مقصد ’موچا‘ (Mocha) کی بندرگاہ سے مواصلاتی رابطے منقطع کرنا تھا۔ یہ بندرگاہ کئی ہفتوں سے حملوں کی زد میں ہے اور وہ ’آبنائے باب المندب‘ سے ملحقہ علاقوں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔
فریقین کے مختلف فوجی اور طبی ذرائع سے اے ایف پی کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق جمعرات سے اب تک دونوں جانب سے 300 سے زائد فوجی اور کچھ عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
PNP
Comments are closed.