اپنی بندرگاہ رکھنے والی کورین کمپنی، ہر 10 سیکنڈ میں ایک کار تیار
جنوبی کوریا کی ہنڈائی موٹر کمپنی کا السان پلانٹ اپنی غیر معمولی پیداواری صلاحیت اور منفرد صنعتی نظام کے باعث دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، جہاں اوسطاً ہر 10 سیکنڈ میں ایک نئی گاڑی اسمبلی لائن سے باہر آتی ہے۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے واحد کار ساز پیداواری مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس کی اپنی برآمدی گودی بھی موجود ہے۔
جنوبی کوریا کے شہر السان میں پھیلا یہ وسیع صنعتی کمپلیکس کئی پیداواری یونٹس پر مشتمل ہے۔ یہاں تیار ہونے والی گاڑیوں کو فیکٹری سے باہر لے جانے کے بعد کسی الگ مقام تک منتقل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ پلانٹ کے ساتھ موجود برآمدی گودی سے انہیں براہ راست بحری جہازوں پر لاد کر دنیا کی مختلف منڈیوں کے لیے روانہ کیا جاتا ہے۔
روزانہ ہزاروں گاڑیاں تیار
السان پلانٹ کی پیداواری رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں ایک گاڑی کی تیاری کا اوسط وقفہ تقریباً 9.6 سیکنڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پلانٹ میں تقریباً 31 ہزار افراد کام کرتے ہیں اور یہاں تیار ہونے والی گاڑیوں میں ہنڈائی کے متعدد مقبول ماڈلز شامل ہیں۔
یہاں گاڑیوں کی تیاری میں جدید مشینوں اور روبوٹک نظام کے ساتھ ماہر کارکن بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گاڑی کا دھاتی ڈھانچہ تیار کرنے سے لے کر اس کی ویلڈنگ، رنگ و روغن اور آخری مرحلے میں انجن، نشستیں، دروازے، شیشے اور دیگر پرزے نصب کرنے تک ہر مرحلہ انتہائی منظم انداز میں مکمل کیا جاتا ہے۔
فیکٹری کے ساتھ اپنی برآمدی گودی
السان پلانٹ کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک اس کی اپنی شپنگ گودی ہے۔ ہنڈائی کے تیار شدہ گاڑیوں کے برآمدی نظام کے تحت ہزاروں گاڑیاں گودی کے قریب قطار میں کھڑی کی جاتی ہیں اور پھر خصوصی گاڑی بردار بحری جہازوں میں منتقل کردی جاتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس گودی سے روزانہ ہزاروں گاڑیاں برآمد کی جاتی ہیں جبکہ ہنڈائی کی گاڑیاں تقریباً 190 ممالک تک پہنچتی ہیں۔ 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق السان سے روزانہ 4 ہزار 800 تک گاڑیاں برآمد کی جاسکتی ہیں۔
بڑے گاڑی بردار جہاز ایک سفر میں ہزاروں گاڑیاں لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے فیکٹری سے نکلنے والی گاڑیوں کا سفر نسبتاً مختصر رہتا ہے اور تیار گاڑیاں براہ راست عالمی منڈیوں کی جانب روانہ کردی جاتی ہیں۔
لاکھوں گاڑیوں کی سالانہ پیداوار
السان کمپلیکس میں پانچ بڑے پیداواری پلانٹس موجود ہیں اور یہ پورا صنعتی مرکز تقریباً 50 لاکھ مربع میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ مختلف پیداواری لائنوں پر ہنڈائی اور جینیسس کے کئی ماڈلز تیار کیے جاتے ہیں۔
السان کو ہنڈائی کی عالمی پیداواری سرگرمیوں کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تیار ہونے والی گاڑیوں میں ٹکسن، کونا، وینیو، آئیونک اور جینیسس کے مختلف ماڈلز شامل ہیں۔
انسان اور روبوٹ مل کر گاڑی بناتے ہیں
فیکٹری کے اندر پیداواری عمل انتہائی منظم دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف جدید روبوٹ گاڑیوں کے ڈھانچوں پر ویلڈنگ اور دیگر بھاری کام انجام دیتے ہیں تو دوسری طرف کارکن ان مراحل کی نگرانی اور حساس کام مکمل کرتے ہیں۔
گاڑی کا ڈھانچہ تیار ہونے کے بعد اسے رنگ کرنے کے مرحلے سے گزارا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسمبلی لائن پر ہزاروں مختلف پرزے نصب کیے جاتے ہیں۔ آخر میں گاڑی کو مکمل جانچ کے عمل سے گزار کر برآمدی گودی کی طرف روانہ کردیا جاتا ہے۔
کئی دہائیوں پر محیط تاریخ
السان میں ہنڈائی کی گاڑیوں کی تیاری کا آغاز 1968 میں ہوا تھا۔ بعد ازاں 1975 میں ہنڈائی نے اپنی پہلی مقامی طور پر تیار کردہ گاڑی پونی متعارف کرائی، جس نے جنوبی کوریا کی مقامی کار سازی کی صنعت میں اہم کردار ادا کیا۔
وقت کے ساتھ یہ فیکٹری ایک بڑے صنعتی کمپلیکس میں تبدیل ہوگئی اور ہنڈائی کی عالمی برآمدی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت حاصل کرلی۔
اب یہی مقام جدید گاڑیوں، برقی گاڑیوں اور جینیسس کے مہنگے ماڈلز کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ہنڈائی نے السان میں برقی گاڑیوں کے لیے ایک نئے پیداواری مرکز کی تعمیر بھی کی ہے، جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 2 لاکھ برقی گاڑیاں رکھنے کا منصوبہ ہے۔
یوں جنوبی کوریا کا السان پلانٹ محض ایک کار فیکٹری نہیں بلکہ ایسا مکمل صنعتی نظام بن چکا ہے جہاں گاڑی کی تیاری سے لے کر اسے بحری جہاز پر لاد کر دنیا کے دوسرے کونے تک پہنچانے تک کئی مراحل ایک ہی صنعتی مرکز کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔
PNP
Comments are closed.