روس تنصیبات پر حملے روکے تو یوکرین بھی کشیدگی کم کرے گا، زیلنسکی
کیف: یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اگر روس اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بند کردے تو یوکرین بھی روس کے ساتھ جاری تنازع میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تیار ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں پر تنقید کی اور روس میں ڈیزل ایندھن کی قلت کا ذمہ دار ایسے حملوں کو قرار دیا۔
ٹرمپ کے مطابق یوکرین نے روسی توانائی کے مراکز کو نشانہ نہ بنانے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ روس نے بھی اسی نوعیت کے اقدام پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
روسی حکام کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب اپنے روزانہ خطاب میں ولادیمیر زیلنسکی نے اہم تنصیبات پر حملے باہمی طور پر روکنے سے متعلق امریکی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کشیدگی کم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے روس کو بھی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روکنا ہوگا۔
زیلنسکی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین جنگ کے دوران اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے معاملے پر محدود نوعیت کے سمجھوتے کیلئے آمادگی رکھتا ہے، بشرطیکہ روس بھی اسی پالیسی پر عمل کرے۔
PNP
Comments are closed.