by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ٹیلی ویژن کا شعبہ انتہائی تخلیقی اور سخت مسابقتی میدان ہے، ارشد خان

پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی اور چیئرمین ارشد خان نے کہا ہے کہ ٹیلی ویژن کا شعبہ ایک انتہائی تخلیقی اور سخت مسابقتی میدان ہے۔

ڈیلس ٹیکساس میں جنگ سے خصوصی انٹرویو میں ارشد خان نے بتایا کہ ان کا پس منظر انتہائی سادہ تھا۔ انہوں نے گورنمنٹ اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں الیکٹرانکس انجینئرنگ میں ڈگری لی اور بعد میں ماسٹرز کی تکمیل کی۔ بعدازاں ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے وابستہ ہوئے۔

پی ٹی وی کی اندرونی صورتحال پر انھوں نے کہا مارکیٹنگ اور پرائم ٹائم نشریاتی اوقات پر خطیر رقم خرچ کی جاتی رہی، تاہم یہ اوقات بڑی حد تک آؤٹ سورس ہو چکے تھے۔ ادارے میں ڈراموں کی تیاری کا عمل تقریباً مکمل طور پر رک چکا تھا، جس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے کو اندرونی تخلیقی صلاحیت کی کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا۔

واضح رہے بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ساتھ ارشد خان کے تنازعات کے نتیجے میں انہیں ایم ڈی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

ارشد خان کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

ارشد خان نے زور دے کر کہا کہ ٹیلی ویژن کا شعبہ ایک انتہائی تخلیقی اور سخت مسابقتی میدان ہے، جسے ریلوے، پوسٹ آفس یا دیگر سول سروس گروپس جیسے ڈی ایم جی یا پولیس کی طرح ایک محفوظ ملازمت تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ہر آدھے گھنٹے کے لیے نیا مواد تیار کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے مسلسل تخلیقی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

ارشد خان نے پاکستان کے مجموعی طرزِ حکمرانی پر بھی کھل کر بات کی۔ ان کے مطابق ملک کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس کا ہے، ادارے یا تو وقت پر تشکیل نہیں پاتے، یا اگر بن بھی جائیں تو انہیں طویل مدتی بنیادوں پر برقرار رکھنے میں ناکامی ہوتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ انہیں تین بار پی ٹی وی کی سربراہی کا موقع ملا لیکن اپنے دورِ ملازمت میں انہوں نے کبھی سفارشات، ٹرانسفر پوسٹنگ یا نوکریوں کی تقسیم جیسے معاملات میں ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔

ارشد خان نے پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم نوجوانوں کو نصیحت کی کہ انہیں صبر سے کام لینا چاہیے اور حالات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ راتوں رات کامیابی یا دولت کے شارٹ کٹ تلاش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ 



PNP

Comments are closed.