by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اقتدار تک ہرمز بند رکھنے کا ایرانی اعلان

تہران: ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے سیاسی مشیر محمد باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو اس وقت تک کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتا جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اقتدار میں ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق محمد باقر ذوالقدر نے اپنے ایک بیان میں آبنائے ہرمز کی بندش کو ایران کے مطابق جوابی کارروائی کے پہلے مرحلے سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے اپنے مخالفین کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذوالقدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹائے جانے تک نہیں کھولے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور ایران کے ساتھ امریکا کی کشیدگی برقرار ہے

رپورٹس کے مطابق ایران کے اندر بھی امریکا کے ساتھ جاری محاذ آرائی کے مستقبل اور مذاکرات کے امکان پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض ایرانی حکام مذاکرات اور سفارتی راستے پر زور دے رہے ہیں جبکہ سخت گیر حلقے فوجی دباؤ برقرار رکھنے اور آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کو زیادہ مؤثر حکمت عملی قرار دے رہے ہیں

دوسری جانب ایران کو معاشی دباؤ، پابندیوں اور بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ایرانی معیشت پہلے ہی مہنگائی اور ریال کی قدر میں کمی جیسے مسائل سے دوچار رہی ہے، جبکہ تیل کی برآمدات اور درآمدی سرگرمیوں پر دباؤ سے معاشی مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے اس کی بندش یا آمدورفت میں رکاوٹ کا عالمی توانائی اور تجارت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

PNP

Comments are closed.