by Rao Imran Suleman
Rao Nama

مکہ دفاعی معاہدے پر تنقید، ترک وزیر خارجہ نے دوٹوک جواب دے دیا

نیویارک: ترک وزیر خارجہ نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر تنقید کرنے والوں کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دفاعی تعاون کے معاہدے کا دفاع کیا ہے۔

نیویارک میں ایک سیمینار کے دوران ترک وزیر خارجہ نے نئے دفاعی اتحاد کی کارکردگی اور اس کے عملی کردار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے نیٹو کی تاریخ اور اجتماعی دفاع کے اصول کا حوالہ دیا۔

سابق امریکی سفیر جیمز جیفری کی جانب سے اتحاد کے امتحان سے متعلق سوال پر ترک وزیر خارجہ نے سوال کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران نیٹو کے اجتماعی دفاع سے متعلق آرٹیکل 5 کتنی مرتبہ نافذ کیا گیا۔

ترک وزیر خارجہ کے مطابق نیٹو کی طویل تاریخ میں آرٹیکل 5 کا اطلاق صرف ایک مرتبہ ہوا، تاہم اس بنیاد پر نیٹو کو غیر مؤثر اتحاد قرار نہیں دیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان قائم ہونے والے نئے دفاعی تعاون سے فوری طور پر یمن کے ایک دہائی پر محیط بحران کا حل طلب کرنا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نئے اتحاد کی افادیت جانچنے کے لیے اسے وقت اور عملی حالات کا سامنا کرنے کا موقع دینا چاہیے۔

ترک وزیر خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں دفاعی تعاون اور سلامتی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس پر ہونے والی تنقید کا جواب دیا۔

PNP

Comments are closed.