by Rao Imran Suleman
Rao Nama

خامنہ ای کو نشانہ بنانا بڑی اسٹریٹیجک غلطی تھی، اسرائیلی وزیر کا اعتراف

اسرائیلی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائر گولان نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کرنا اسرائیل کی ایک سنگین غلطی تھی، جس نے خطے میں اسرائیل کی عسکری اور سیاسی پوزیشن کو مزید بدتر کر دیا۔

ایک انٹرویو کے دوران یائر گولان کا کہنا تھا کہ سینیئر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے اسرائیل کے اسٹریٹیجک مفادات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عمر رسیدہ اور طویل عرصے سے اقتدار میں موجود رہنما کا منصب پر براجمان رہنا مخالف فریق کے لیے بعض اوقات خاص فائدے کا حامل ہوتا ہے، اور سینیئر خامنہ ای کی عمر 86 برس تھی۔

اسرائیلی رہنما کے مطابق، ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے سے تہران میں انقلابی حکومت کا تختہ الٹنے کے برعکس وہاں کے قدامت پسند حلقے مزید مضبوط ہو گئے، جس سے براہ راست اسرائیل کے اسٹریٹیجک مفادات کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے موجودہ اسرائیلی وزیراعظم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جنگ میں ایسے غیرحقیقت پسندانہ اہداف مقرر کیے جن کے حصول میں اسرائیل کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک اور سوال کے جواب میں یائر گولان نے اسرائیل کی الٹرا آرتھوڈوکس آبادی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں دوسروں کے وسائل پر گزارا کرنے والا طبقہ قرار دیا۔

PNP

Comments are closed.