by Rao Imran Suleman
Rao Nama

مسلمانوں کی ہمدرد جج کو نوبل انعام ملنے پر اسرائیلی وزیراعظم بھڑک اٹھے

عالمی فوجداری عدالت کےپراسیکیوٹر کریم خان اور ناوی پلّے کے کردار پرسنگین سوالات اٹھا دیے گئے

October 9, 2026 · بام دنیا

نوبیل انعام پر اسرائیلی وزیراعظم کا شدید ردعمل، تنازع شدت اختیار کرگیا۔ فائل فوٹو

مسلمانوں کے حقوق کی حمایت کرنے والی جج ناوی پلّے کو نوبل انعام دیے جانے پر اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ نوبل کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ اس نے اپنا اخلاقی معیار کھو دیا ہے اور ایسے شخص کو اعلیٰ اعزاز سے نوازا ہے جس نے اسرائیل کے خلاف بے بنیاد الزامات پھیلانے میں کردار ادا کیا۔

بیان کے مطابق، ناوی پلّے کی سب سے بڑی کامیابی ایک ایسے پراسیکیوٹر کو قانونی جواز فراہم کرنا تھی جس نے اسرائیل کے خلاف اپنے الزامات کو تقویت دینے کے لیے ان کے دعوؤں کا سہارا لیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ پراسیکیوٹر نے جنسی زیادتی کے الزام کا سامنا کرتے ہوئے پلّے کے مؤقف سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔

بیان میں عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کریم خان پر بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ان کے اپنے ادارے کے ملازمین نے ان پر ریپ اور جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ بیان کے مطابق، خان نے اسرائیل کے خلاف ایک مبینہ جعلی مقدمہ تیار کرنے کے لیے پلّے کے الزامات کو استعمال کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ پلّے نے الزامات فراہم کیے، خان نے انہیں بطور ہتھیار استعمال کیا، اور اب نوبیل کمیٹی کے ارکان ایسی خاتون کو اعزاز دے رہے ہیں جس پر یہودیوں کے خلاف منفی تاثر پھیلانے اور انصاف کے ساتھ سنگین ناانصافی کا سبب بننے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مسلم دنیا کے مسائل اور تنازعات میں نوی پلے کا کردار انتہائی نمایاں اور بے باک رہا ہے۔ 2021 سے 2025 تک انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور غزہ سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کی سربراہی کی۔ اس کمیشن نے ستمبر 2025 میں اپنی تاریخی اور مفصل رپورٹ پیش کی، جس میں شواہد کی بنیاد پر یہ دوٹوک نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی باقاعدہ نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

نوی پلے نے بین الاقوامی فورمز پر یہ مؤقف اپنایا کہ اسرائیلی سیاسی و عسکری قیادت نے نسل کشی کی ترغیب دی اور انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں کو خبردار کیا کہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنا قانونی طور پر نسل کشی میں معاونت کے برابر ہے۔

PNP

Comments are closed.