نوبل امن انعام نہ ملنے پر ٹرمپ شدید غصے میں جل گئے
نوبیل امن انعام نہ ملنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدید برہم ہوگئے اور ناروے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ ٹرمپ نے انعام نہ دیے جانے کو امریکا کے لیے شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ناروے کو یہ بات یاد رہے گی۔
نیویارک کے شہر سائراکیوز میں ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم کے لیے منعقدہ ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اپنی تقریر کا خاصا طویل حصہ نوبیل کمیٹی پر تنقید کرنے میں صرف کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا، جس کی نمائندگی وہ بطور صدر کر رہے ہیں، نوبیل امن انعام کا مستحق تھا، لیکن اسے یہ اعزاز نہیں دیا گیا۔ ان کے بقول، یہ ناروے اور ان لوگوں کے لیے ایک ایسا داغ ہے جو اس شرمناک اور توہین آمیز فیصلے کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند انتہا پسند نظریات رکھنے والے افراد، جو جمہوریت مخالف اور تہذیب کے دشمن ہیں، نے نوبیل امن انعام کی ساکھ کو ہمیشہ کے لیے نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’ناروے، ہم یہ بات نہیں بھولیں گے کہ تم نے ہمیں یہ انعام نہیں دیا۔‘‘
امریکی صدر نے ان جنگوں کی فہرست بھی بیان کی جنہیں ختم کرنے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ ان میں سے بعض تنازعات جنگیں نہیں تھے جبکہ کچھ اب بھی حل طلب ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ ایران اور روس یوکرین جنگ سمیت مزید دو تنازعات کو ختم کرنے یا ان میں کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ دونوں جنگیں جلد ختم کر دیں گے۔ ایران کے حوالے سے انہوں نے سخت لہجے میں کہا، ’’میں آپ کو بتاتا ہوں، ایران کا معاملہ کسی نہ کسی صورت میں بہت جلد ختم ہو جائے گا، یا تو وہ ہمیں سب کچھ دے دیں گے یا پھر ان کا وجود باقی نہیں رہے گا۔‘‘
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے اور پورے مشرق وسطیٰ، حتیٰ کہ یورپ اور ممکنہ طور پر امریکا کو تباہ کرنے سے روک دیا، اور تاریخ میں کسی بھی دوسرے شخص کے مقابلے میں زیادہ جانیں بچائی ہیں۔
تاہم، امریکی صدر کے اس دعوے کے برعکس، امریکی انٹیلی جنس اداروں نے 2025 میں کانگریس کو بتایا تھا کہ ایران نے 2003 میں ہی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں معطل کر دی تھیں۔
ٹرمپ نے نوبیل امن انعام کے اعلان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تمام غیرمعمولی کامیابیوں کے باوجود یہ انعام ایک ایسی لبرل شخصیت کو دے دیا گیا جس نے اقوام متحدہ میں کام کیا اور جسے، ان کے بقول، کوئی نہیں جانتا۔
ان کا اشارہ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ناوی پلے کی جانب تھا، جو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سابق سربراہ رہ چکی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کی تھی جس نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہوا۔
PNP
Comments are closed.