by Rao Imran Suleman
Rao Nama

اسرائیل میں اسکول کے بچوں کے مطالعاتی دورے کے دوران دھماکا: ایک ہلاک، 24 افراد زخمی

تل ابیب: اسرائیلی فوج نے شمالی علاقے میں اسکول کے بچوں کے مطالعاتی دورے کے دوران ہونے والے المناک دھماکے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کر کے اس کا سراغ لگا لیا ہے۔ اس افسوس ناک واقعے میں ایک بچہ ہلاک جبکہ اساتذہ اور بچوں سمیت 24 افراد زخمی ہو گئے۔

‘ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے بتایا کہ یہ واقعہ لبنان کی سرحد کے قریب واقع ‘رامیم رج’ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں اسکول کے بچے اور اساتذہ قدرتی مناظر دیکھنے کے لیے پیدل سفر (ہائیکنگ) پر نکلے ہوئے تھے۔

فوجی بیان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دھماکا حزب اللہ کے ایک راکٹ کا کلسٹر بم (ذیلی بم) تھا، جو ممکنہ طور پر پہلے سے علاقے میں موجود تھا اور حملے کے وقت کسی وجہ سے پھٹ نہیں سکا تھا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسکول کے ایک کم سن طالب علم نے راستے میں پڑے اس غیر پھٹے گولے کو اٹھایا، جس کے فوری بعد وہ زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ کلسٹر بم ہونے کی وجہ سے اس کے اندر موجود مزید چھوٹے بم بھی یکے بعد دیگرے پھٹنے لگے، جس سے وہاں شدید افراتفری پھیل گئی اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔

واقعے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو قریب ترین ہسپتال منتقل کیا۔ اسرائیلی فوج کے ملٹری انجینئرنگ اور بم ڈسپوزل ماہرین نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید غیر پھٹے گولہ بارود کی تلاش اور صفائی کا کام شروع کر دیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کے سربراہ ڈینی لیوی نے جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ پولیس کے بم ناکارہ بنانے والے ماہرین نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ حزب اللہ کے راکٹ کا ہی ذیلی بم تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسکول کے اس مطالعاتی دورے کے لیے متعلقہ حکام سے باقاعدہ منظوری لی گئی تھی۔

پولیس سربراہ نے اعلان کیا کہ علاقے میں مزید غیر پھٹے بموں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر چند روز کے لیے ہائیکنگ، پیدل سیر و تفریح اور ہر قسم کے مطالعاتی دوروں پر مکمل پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

PNP

Comments are closed.