by Rao Imran Suleman
Rao Nama

مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال انسانیت کی بقا کیلئے سنگین خطرہ بن گیا

 

عالمی جریدے “دی لانسیٹ” میں شائع ہونے والی ایک اہم تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اور جوہری تنازعات سال 2100 تک انسانیت کی بقا کے لیے سب سے بڑے خطرات ثابت ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ خطرات امراض، سماجی اور معاشی حالات، ماحولیاتی تبدیلیوں، ٹیکنالوجی اور باہمی تنازعات سے جڑے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے اعداد و شمار اور حقائق کے مطابق، محققین نے دنیا کے 204 ممالک اور خطوں میں سیکڑوں ممکنہ خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ انسانیت کی بقا کو درپیش 2 بڑے خطرات کے علاوہ اس رپورٹ میں انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والے مزید 15 تباہ کن خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان خطرات میں فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلیاں، الکحل کا استعمال، قدرتی متعدی وبائیں، موٹاپا، تمباکو نوشی اور ناقص ذہنی صحت سرفہرست ہیں۔

محققین نے عالمی رہنماؤں کو شدید انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانیت کی بقا اور صحت سے متعلق یہ سنگین ترین خطرات آپس میں گہرے جڑے ہوئے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحت، معاشیات، موسم، دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں سے متعلق فیصلے یہ تعین کریں گے کہ آنے والی نسلوں کی صحت کتنی اچھی یا خراب ہو گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات خطرات کا پیمانہ نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ انسانیت نے اب تک اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام 17 تباہ کن خطرات کے حوالے سے آج عالمی رہنماؤں کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے اگلی نسل کی صحت اور مستقبل کا تعین کریں گے، جبکہ ان اقدامات میں تاخیر سے آئندہ کے خطرات میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں اس امر کا بھی تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ہر خطرے کی وجہ سے اچھی صحت کے کتنے سال امراض، معذوری یا قبل از وقت موت کے باعث ضائع ہو جاتے ہیں۔ محققین نے زور دیا ہے کہ طبی نظام کو بہتر بنانے اور ٹیکنالوجیکل تنوع میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق یہ خطرات مستقبل میں حتمی یا ناگزیر نہیں ہیں، اور اگر وقت پر درست حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں تو ان کی مکمل روک تھام ممکن ہے۔

PNP

Comments are closed.