سعودی فوجی اتحاد کا صنعا اور دیگر شہروں میں آئل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ریاض:سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اس نے یمن کے دارالحکومت صنعا، الحدیدہ اور ذمار میں ایندھن کے ذخیرہ کرنے اور نقل و حمل کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثی ان تنصیبات کو اپنی عسکری کارروائیوں کی معاونت کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ان حملوں میں صنعا میں واقع مرکزی ’الصباحہ‘ اسٹیشن کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین ایندھن کے ڈپو، ٹینک اور ایندھن کی نقل و حمل اور اتارنے کے لیے مختص ڈاکس کو نشانہ بنایا گیا۔
المالکی نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ان تنصیبات کو سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کی معاونت اور ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس آپریشن کا مقصد حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق، اتحاد نے شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔
PNP
Comments are closed.