یمن کے مغربی صوبے تعز کے دیہی علاقے میں حکومتی فورسز نے سینئر حوثی عہدیدار میجر جنرل اکرم عامر کو چند دیگر افراد سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
العربیہ سمیت مختلف ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اکرم عامر حوثی وزارت داخلہ میں انسدادِ منشیات کے محکمے کے سربراہ تھے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ انہیں بریگیڈیئر جنرل سے ترقی دے کر میجر جنرل کا عہدہ دیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری سے متعلق ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب حوثی حکام نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکرم عامر فوجی کمانڈر نہیں بلکہ وزارت داخلہ کے اہلکار تھے۔ حوثیوں کے مطابق وہ ایک قید خانے کو محفوظ بنانے کے لیے گئے تھے، تاہم راستہ بھٹکنے کے باعث حکومتی فورسز کے زیرِ کنٹرول علاقے میں پہنچ گئے۔
تعز کے محاذ پر جاری کشیدگی کے دوران اس گرفتاری کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم گرفتاری کے حالات اور اکرم عامر کی ذمہ داریوں سے متعلق دونوں فریقوں کے مؤقف مختلف ہیں۔
PNP
Comments are closed.