by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ٹرمپ کا ایران میں امریکی فوج اتارنے اور جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے انکار

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے اور امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون ایران کی توانائی تنصیبات اور جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے مزید فوجی کارروائیوں کے منصوبوں پر غور کرچکا ہے۔

نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق بھی گفتگو کی اور بتایا کہ امریکا اس معاملے پر روس اور چین کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائیوں کے منصوبوں پر غور کررہی ہے۔ ان منصوبوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کے طاقتور ترین غیر جوہری بم کے استعمال کا امکان بھی زیر بحث آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق منصوبہ بندی سے واقف ذرائع نے بتایا کہ امریکی اسلحہ خانے میں موجود جی بی یو-43/بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (ایم او اے بی) بم کے ممکنہ استعمال پر بھی غور کیا گیا۔ اس بم کو عام طور پر ’مدر آف آل بمز‘ کہا جاتا ہے اور یہ انتہائی تباہ کن غیر جوہری ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے خلاف اس بم کا استعمال تنازع کو مزید شدت دے سکتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی محاذ آرائی بڑھنے کا خدشہ پیدا کرسکتا ہے۔

دوسری جانب اس ہتھیار کی غیر معمولی تباہ کن صلاحیت کے باوجود یہ سوال بھی موجود ہے کہ آیا اس کا استعمال کسی اہم فوجی یا اسٹریٹجک ہدف کے حصول میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں اور زمینی فوج کے استعمال سے انکار کے باوجود ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائیوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات خطے میں جاری کشیدگی اور امریکا کی آئندہ فوجی حکمت عملی کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔

PNP

Comments are closed.