کراچی(پی این پی)ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما وسیم اختر نے کہا ہے کہ سندھ پر 18 سال سے حکمرانی کرنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت ناکام ہو چکی ہے، جس نے کراچی کو تباہ کردیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق متحدہ لائرز فورم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ آج گورنمنٹ کی کارکردگی پر بات کریں گے۔ جس طرح پیپلز پارٹی کی وڈیرہ مافیا گورننس کررہی ہے، چند ایسے مسائل ہیں جو حساس موضوع کے ہیں۔ آج ایک ہفتہ ہوگیالیکن افسوس کہ کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا۔
انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ذمے داری چیف صاحب کی بنتی ہے۔ چیف سیکرٹری کو سامنا آنا چاہیے تھا اور نوٹس لینا تھا۔ جوڈیشری اور وکلاء پر بڑی اہم ذمے داریاں ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے ذکر کرتا ہوں شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کا، جہاں لاتعداد جعلی بھرتیاں ہوئیں۔ 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ہر شخص جانتا ہے۔ وزیر اعلیٰ اور سندھ بار کونسل کو آگے آکر نوٹس لینا چاہیے تھا۔
وسیم اختر نے کہا کہ وکلا صاحبان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جہاں میرٹ قتل ہوا، اس کی نشاہدہی کی جائے۔ میرے سامنے شاہ عبد اللطیف یونیورسٹی کا نوٹیفکیشن موجود ہے، جس کے مطابق 1184 وکلا کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ جعلی ڈگریوں کے ساتھ یہ وکلا عدالتوں پیش ہوتے رہے، بلکہ بار کونسل میں ووٹ بھی دیتے رہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، یہ ایک جرم ہے۔ اب یہ ذمہ داری شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، وزیر قانون سندھ اور اٹارنی جنرل کی ہے۔ ہم آج پریس کانفرنس کے ذریعے نشاندہی کررہے ہیں۔ جامعہ کراچی کے حوالے سے بھی ایک اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ کے حکم پر ایک شخص کو فیکلٹی آف لا کا ڈین بنا دیا گیا۔ ایسے شخص کو نامزد کیا گیا جس کے پاس ایم فل کی ڈگری تک نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آگے کون سا نظام لانے جارہی ہے سمجھ سے باہر ہے۔ سندھ حکومت کے ماتحت اداروں کا حال ہم سب جانتے ہیں۔ جامعہ کراچی لا فیکلٹی کا ڈین وزیر اعلیٰ کے حکم پر ایک جونیئر وکیل کو مقرر کیا گیا۔ ایسے وکلا کو بھی بار کا لائسنس مل جاتا ہے، جو کہ اندرون سندھ کسی دوسرے ضلع میں بھی رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔
وسیم اختر نے کہا کہ آج کے نوجوان قانون کی تعلیم سندھ کو آگے لے جانے کے لیے حاصل کر رہے ہیں۔ خدارا اس اہم ادارے کو تعصب اور لسانیت سے پاک رکھیں۔ وکلا کا ایک ٹولہ آہستہ آہستہ ایک مافیا کی صورتحال اختیار کر رہا ہے۔ قابل اور پروفیشنل وکلا ایسے عمل میں ملوث نہیں، وہ ادارے کا اثاثہ ہیں۔ بہت سے وکلاء کی اندرون سندھ کے بار کونسل میں رجسٹریشن ہے اور انہیں یہاں لاکر رجسٹریشن دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں پیپلز پارٹی کو ڈائریکٹ کہہ رہا ہوں، آپ وکلاء کی تعداد بڑھانا چاہ رہے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟۔ آپ نے میرٹ کا قتل عام کیا ہوا ہے۔ تمام بار کونسل کی ذمہ داری ہے کہ اس کا نوٹس لیں۔ سپریم کورٹ سے گزارش ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ آپ نے دیگر محکوموں کی بھی حالت کیا کردی ہے؟۔ ریوینیو ڈپارٹمنٹ میں ایک پلاٹ کو چار چار لوگوں کو بیچا گیا،اب جب وہ ڈیجیٹئلائز ہورہے ہیں تو مسئلہ آرہا ہے۔ آج آپ جعلی نمبر کے ذریعے وکلاء تیار کررہے ہیں۔ یہ جعلی وکلا کل عدالت میں کیا پرفارم کریں گے؟۔
وسیم اختر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے پہلے مردم شُماری صحیح نہیں کی۔ میئر کراچی کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ وہ کس طرح جیت کر آئے ہیں۔ یہ سندھ حکومت کی بدانتظامی ہے کہ تعلیمی نظام تباہ ہو چکا ہے۔ جعلی ڈومیسائل اور میرٹ کا قتل عام پیپلز پارٹی کا وتیرہ ہے۔ کراچی کی آبادی 4 کروڑ سے تجاوز کر رہی ہے۔ موجودہ نظام کے تحت اس شہر کی گورننس ممکن نہیں رہی۔ ملک چلانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم علاقہ علاقہ جاکر لوگوں کو ان کی پرفارمنس بتارہے ہیں تو وہاں سے یہ نتائج آرہے ہیں کہ انتظامی یونٹس بننے چاہییں۔ پورا سندھ ان سے سنبھالا نہیں جارہا ہے ، یہ ایک ناکام حکومت اور ناکام وزیر اعلیٰ ہیں۔ محسن نقوی نے انتظامی یونٹس کے حوالے سے بیان دیا، ہم بھی صوبے نہیں انتظامی یونٹس کی بات کررہے ہیں۔ ہم سندھ کو توڑنے کی بات نہیں کر رہے ہم توڑ بھی نہیں سکتے۔ پیپلز پارٹی پنجاب اور خیبر پختون خوا میں نئے صوبے بنانے کے حق میں ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے کہا کہ جہاں 27 ویں ترمیم آچکی ہے تو 28 ویں بھی آجائے گی۔ کراچی میں لاقانونیت عروج پر ہے، کوئی محفوظ نہیں ہے۔ یہاں لوگوں کو نوکریاں نہیں ملتیں، آپ نوکریاں بیچتے ہیں۔ آپ کچھ تو احساس کرلو، اوپر جاکر جواب بھی دینا ہے۔ آج کے اخبار میں خبر ہے کہ ڈاؤ کی 27 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ ان ملازمین کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں۔ ڈاؤ کہاں ہے کراچی میں کون دیکھ رہا، پیپلز پارٹی۔
وسیم اختر نےکہا کہ ہماری عمران خان سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ہمارا عمران خان کی حکومت ہٹانے کا مقصد کراچی کے مسائل کو حل کرنا تھا۔ ہم سے وعدہ کیا گیا تھاکہ آپ ساتھ ووٹ دیں، کراچی کے مسائل حل ہوجائیں گے۔ بلاول بھٹو ، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان نے مل کر ووٹ ڈالا۔ ہمیں بے وقوف بنا دیاگیا اور ووٹ لینے کے بعد ساتھ نہیں دیا گیا۔ اب ایم کیو ایم سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالے گی۔
انہوں نے کہا کہ آج اس پریس کانفرنس کے بعد ایم کیو ایم تمام جماعتوں کے پاس جائے گی۔ ہم سب کے پاس جائیں گے اور ایشو کو مل کر حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کی بربادی کا الزام ایم کیو پر لگایا جاتا ہے۔ ہم نے ملازمتیں بیچی نہیں ہیں پیپلز پارٹی کی طرح۔ ہم نے ماضی میں جو بھی بھرتیاں کیں وہ میرٹ پر کیں۔ اگر ہم مان لیتے ہیں ہم نے غلطیاں کی ہیں تو 17 سال میں آپ نے ان غلطیوں کو ٹھیک نہیں کیا۔ یہ صرف بہانے ہیں اور الزام ہیں جو پیپلز پارٹی ہمیشہ لگاتی ہے۔
PNP
Comments are closed.