پی ٹی آئی مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا
تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی خودمختاری اور آئین پر حملہ قرار دیے کر صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج فوری ختم کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
پی ٹی آئی مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے جاری کردہ اعلامیہ میں سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبائی حکومت کی بحالی کا مطالبہ سامنے آیا۔
اجلاس میں منتخب قیادت، تنظیموں اور کارکنوں پر چھاپوں اور گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار سمیت اسیر رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی کہ جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قانونی تقاضوں کے مطابق فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ بانی سے اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی نمائندوں کی بلا رکاوٹ ملاقات اور رابطے کے حقوق بحال کیے جائیں۔
بانی پی ٹی آئی کے آزادانہ طبی معائنہ اور شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی مقرر کردہ پارلیمانی اور پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر چیمہ کی فوری رہائی کا مطالبہ سامنے آیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ سیاسی مخالفین، وکلا اور ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف غیر قانونی اقدامات کا خاتمہ کیا جائے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی دوٹوک مذمت کرتے ہیں، امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پاکستان کے دفاع میں مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں اعتراف کیا گیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ ن لیگ کی حکومت بانی، پی ٹی آئی اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، پی ٹی آئی کی جائز جمہوری و آئینی جدوجہد کو غلط طور پر ریاست دشمنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کہا گیا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات کے عوام کا مینڈیٹ بحال کیا جائے یا پورے ملک میں نئے، آزادانہ و شفاف انتخابات کرائے جائیں، 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔
26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی واپسی کا مطالبہ بھی پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں کیا گیا، ساتھ ہی کہا گیا کہ عدلیہ کی آزادی، اظہارِ رائے، پُرامن احتجاج اور قانونی کارروائی کے بنیادی حقوق بحال کیے جائیں۔
اعلامیہ میں بانی پی ٹی آئی کی مقرر کردہ پارلیمانی اور پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر علی، سلمان اکرم راجہ کی قیادت پر مکمل اعتماد کیا گیا، جبکہ سہیل آفریدی، جنید اکبر خان اور دیگر عہدیداروں پر اعتماد کا اعادہ بھی کیا گیا۔
پارٹی اعلامیہ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بااختیار بنائی گئی پولیٹیکل، کور کمیٹی اور پارٹی تنظیموں کے اختیارات کو تسلیم کرتے ہیں، حتمی فیصلوں کا اختیار بانی پی ٹی آئی اور ان کی بااختیار کردہ قیادت کے پاس ہی رہے گا۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور اندرونی اختلافات کو عوامی بیانات کے بجائے پارٹی فورمز پر حل کرنے کا عزم کیا گیا، پارلیمانی، سیاسی اور قانونی محاذوں پر بااختیار قیادت کی مشاورت سے مربوط جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
PNP
Comments are closed.