کراچی(پی این پی) صدر سائٹ ایسوسی ایشن کراچی سائٹ صنعتی ایریا کراچی کے صنعتکاروں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ مہنگی توانائی، سیاسی عدم استحکام اور غیر مستحکم معاشی پالیسیوں کے باعث ملکی صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت واقعی صنعتی پہیہ رواں رکھنا اور ملکی معیشت کو تباہی سے بچانا چاہتی ہے تو مہنگی توانائی اور غیر یقینی معاشی پالیسیوں کا فوری خاتمہ کرنا ہوگا۔ صنعتکاروں نے حکومت کی توجہ ملک کو درپیش سنگین معاشی بحران اور صنعتی شعبے کو لاحق خطرات کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ صنعتی ترقی اور معاشی بحالی کے لیے توانائی بحران، سیاسی عدم استحکام اور غیر مستقل معاشی پالیسیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالہادی نے کہا کہ حکومت اگر صنعتی ترقی اور معیشت کی بحالی میں سنجیدہ ہے تو اسے زمینی حقائق تسلیم کرتے ہوئے صنعت اور کاروبار کے لیے سازگار اقدامات کرنا ہوں گے بصورت دیگر صنعتوں کے لیے اپنی بقا برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بجلی، گیس اور پانی سمیت بنیادی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی، سیاسی استحکام اور مستقل طویل المدتی معاشی پالیسیوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور عالمی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے پیداواری لاگت کو خطے کے دیگر ممالک کے برابر لانا ہوگا۔ صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے کہا کہ پاکستان میں صنعتوں کو درپیش سنگین مسائل کے خاتمے کے لیے توانائی کے شعبے میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات ضروری ہیں۔ بجلی، گیس اور پانی کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مسابقتی سطح پر لانا ہوں گی تاکہ مقامی صنعتیں پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کے دباؤ سے نکل سکیں اور عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام صنعتی اور معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سیاسی بے یقینی کے باعث بین الاقوامی خریداروں اور کاروباری شراکت داروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں برآمدی آرڈرز کے حصول دشوار ہوجاتا ہے اور سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان کو ایسی مستقل اور طویل المدتی صنعتی و معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جو حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود جاری رہے اور جس میں بار بار تبدیلیوں سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کی شرح کے لیے ایک پائیدار، شفاف اور قابل پیش گوئی نظام متعارف کرانے کے ساتھ شرح سود کو بھی خطے کے مسابقتی ممالک کے برابر لانا ہوگا۔ عبدالہادی نے کہا کہ سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کا اعتماد بحال کیے بغیر نئی سرمایہ کاری، صنعتی توسیع، روزگار کے نئے مواقع اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کسی صورت ممکن نہیں۔ حکومت کو محض معاشی بحالی کے دعووں اور اعلانات کے بجائے توانائی کے بحران، سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی معاشی پالیسیوں جیسے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر فوری اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے بصورت دیگر صنعتوں کی بقا خطرے میں پڑجائے گی۔
PNP
Comments are closed.