اسلام آباد:فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف اور عام انتخابات کے کیس سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کرلیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل کمیٹی کے فیصلے کے بعد عدالت عظمیٰ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل اور عام انتخابات کے کیسز سماعت کیلیے مقرر کردیے ہیں۔
سپریم کورٹ نے مقدمے کے فریقین کو باقاعدہ نوٹسز بھی جاری کردیے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ 23 اکتوبر کو فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کرے گا۔ لارجر بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت 23 اکتوبر ساڑھے 11 بجے ہوگی۔ کیس کی گزشتہ سماعت 3 اگست کو ہوئی تھی۔
دریں اثنا سپریم کورٹ میں دوسرا اہم مقدمہ 90 روز میں عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق ہے، جس کی سماعت بھی 23 اکتوبر کو ہوگی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا۔ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ اس بینچ میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ملک میں 90 روز میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے سپریم کورٹ بار اور پی ٹی آئی سمیت دیگر نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
Trending
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔