حماس کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے کہا کہ قطر کی جانب سے عارضی فائر بندی کے فریم ورک کی پیشکش کے بعد حماس کو امید ہے کہ غزہ کی پٹی میں عارضی فائربندی کے بجائے “مکمل اور جامع جنگ بندی” ہوگی اور جنگ کے خاتمے پر ہی باقی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے، جس میں قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق اسرائیل نے 35 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے 45 روزہ فائر بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہر ایک اسرائیلی کی واپسی پر 100 سے 250 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جاتا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل نے اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پر رضامندی سے انکار نہیں کیا لیکن کہا کہ ‘معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں میڈیا رپورٹس درست نہیں ہیں کیونکہ اس میں ایسی شرائط شامل ہیں جو اسرائیل کے لیے ناقابل قبول ہیں۔
حالیہ دنوں امریکہ اور یورپ کے متعدد ممالک نے یو این آر ڈبلیو اے کی فنڈنگ معطل کرنے کا اعلان کیا۔ 29 جنوری کو یو این آر ڈبلیو اے کے ترجمان نے کہا کہ اگر فنڈز بحال نہ کیے گئے تو ایجنسی فروری کے اواخر کے بعد غزہ کی پٹی سمیت خطے میں کام اور خدمات کی فراہمی جاری نہیں رکھ سکے گی۔غزہ کی پٹی میں فلسطینی محکمہ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل کے فوجی آپریشن میں 26 ہزار 637 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
Trending
- دکانداروں کےخلاف کارروائیاں، تاجروں کا ملک کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ کل بند رکھنےکا اعلان
- آبنائے ہرمز میں دو بحری جہاز ٹکراگئے۔ایران نے 23 غیرملکی اہلکاروں کو بچا لیا
- ماجد ستی قتل کیس، عدالت نے مرکزی ملزم فرخ کھوکھر کو عمر قید کی سزا سنا دی
- فیفا کا ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل کی پچ کے ٹکڑے فروخت کرنے کا فیصلہ، لاکھوں ڈالرز آمدن کی توقع
- جوا ایپ کی تشہیر کے مقدمے میں ٹک ٹاکر اقرا کنول اور اریب کی عبوری ضمانت کنفرم
- سونے کی قیمت میں کمی
- عمان کے لیماہ علاقے کے قریب آئل ٹینکر میزائل کی زد میں آگیا
- کراچی: دورانِ ڈکیتی فائرنگ کا نشانہ بننے والے ڈاکٹر آکاش کی آخری رسومات ادا
- بیوی پر تشدد کا مقدمہ: یوٹیوبر علی حیدر آبادی کی ضمانت میں توسیع
- مک جیگر نے انکشاف کیا کہ وہ ایلوس پریسلے سے کیوں نہیں ملا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔