نیویارک(نیوزڈیسک)اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے ایک بیان جاری کیا جس میں ایک کروڑ 82 لاکھ سے زائد یمنی شہریوں کے لیے ہنگامی انسانی امداد کا مطالبہ کیا گیا۔
بیان میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2024 میں 17.6 ملین سے زیادہ یمنیوں کو شدید غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت یمن تاریخ میں غذائی قلت کی بدترین صورتحال سے دو چار ہے۔ یمن میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا نصف بچے غذائی قلت کی وجہ سے نشوونما کے معتدل یا شدید مسائل کا شکار ہیں اور صورت حال بگڑتی جا رہی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 12.4 ملین یمنی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جس سے متعدی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ اسکول جانے کی عمر کے 4.5 ملین سے زیادہ بچے (5 سے 17 سال کی عمر کے))اسکول نہیں جاتے ہیں۔
اندازے کے مطابق یمن میں اس وقت 4.5 ملین افراد بے گھر ہیں، اور 2024 کے انسانی امداد کے منصوبے کو امدادی اور تحفظ کی خدمات فراہم کرنے کے لئے 2.7 بلین ڈالر کی ضرورت ہوگی.
Trending
- پہلا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ
- اوکاڑہ: 3 ملزمان کی لڑکی کے ساتھ گن پوائنٹ پر نازیبا حرکات، اہلخانہ کو ہراساں بھی کیا
- پاکستان کا ون ڈے کرکٹ میں 1000 میچز کھیلنے کا سنگ میل عبور
- امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار
- سر پال میک کارٹنی نے آخر کار اپنے پسندیدہ دی بیٹلس ممبر کا نام لیا۔
- وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
- سابق ملکہ حسن اور ماڈل اداکارہ کی پُراسرار موت؛ جج ساس گرفتار
- اسٹیو، ایملی گٹنبرگ نے طلاق کی شرائط کو حتمی شکل دی۔
- صدر ٹرمپ کی عمان کو دھمکی سے خود امریکی بھی حیران ہیں، سی این این
- کراچی: بفرزون کے قریب شاپنگ سینٹر میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔