نیویارک(نیوزڈیسک)اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے ایک بیان جاری کیا جس میں ایک کروڑ 82 لاکھ سے زائد یمنی شہریوں کے لیے ہنگامی انسانی امداد کا مطالبہ کیا گیا۔
بیان میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2024 میں 17.6 ملین سے زیادہ یمنیوں کو شدید غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت یمن تاریخ میں غذائی قلت کی بدترین صورتحال سے دو چار ہے۔ یمن میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا نصف بچے غذائی قلت کی وجہ سے نشوونما کے معتدل یا شدید مسائل کا شکار ہیں اور صورت حال بگڑتی جا رہی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 12.4 ملین یمنی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جس سے متعدی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ اسکول جانے کی عمر کے 4.5 ملین سے زیادہ بچے (5 سے 17 سال کی عمر کے))اسکول نہیں جاتے ہیں۔
اندازے کے مطابق یمن میں اس وقت 4.5 ملین افراد بے گھر ہیں، اور 2024 کے انسانی امداد کے منصوبے کو امدادی اور تحفظ کی خدمات فراہم کرنے کے لئے 2.7 بلین ڈالر کی ضرورت ہوگی.
Trending
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
- سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں ریکروٹمنٹ رولز 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ
- ہیکرز کا3 برطانوی ائیرپورٹس پر سائبر حملہ،87 لاکھ مسافروں کا ڈیٹا چوری
- پنجاب میں مون سون کا 8واں اسپیل، 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارشوں کا الرٹ جاری
- بینک اسلامی کا پاکستان کے زرعی سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے شریعت کے مطابق “ایگری وہیکل فائنانس” کا آغاز
- خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 29 اگست سے بارشوں کا امکان، اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ
- لارڈز ٹیسٹ، پہلی اننگز میں انگلینڈ 290 پر آل آؤٹ
- چین میں کرپشن الزامات پر2 اعلیٰ ترین فوجی افسران برطرف
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔