بیجنگ (ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت ایک اسٹریٹجک ٹیکنالوجی ہے جو تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کے ایک نئے دور کی قیادت کرتی ہے، اور نئی صنعت کاری کے لیے ایک اہم محرک ہے۔ چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 18 تاریخ کو بتایا کہ چین میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی تعداد 4500 سے تجاوز کر گئی ہے۔
چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترجمان تاؤ چھینگ نے کہا کہ اگلا قدم الگورتھم اور کمپیوٹنگ پاور سمیت دیگر بگ ماڈل بنیادی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر، سمارٹ چپس، بگ ماڈل الگورتھم اور فریم ورک سمیت کلیدی ٹکنالوجیز اور مصنوعات کی پیش رفت کو تیز کیا جائے گا۔
تاؤ چھینگ نے کہا کہ کلیدی صنعتوں کے لیےمصنوعی ذہانت کے ساتھ نئی صنعت کاری کو بااختیار بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ مینوفیکچرنگ کے پورے عمل میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے اطلاق کو گہرا کیاجائے، اور آر اینڈ ڈی، پیداوار، خدمات، انتظام میں ذہانت کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر کیا جائے گا۔
Trending
- خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
- مامیا شاہ جعفر نے خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف کردیا
- فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد شہناز بلوچ سے اہلِ خانہ کا لاتعلقی کا اعلان
- کورین بینڈ ’بی ٹی ایس‘ نے ٹیلر سوئفٹ سمیت بڑے ستاروں کو پیچھے چھوڑ دیا
- جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندیاں تشکیل پانے لگیں
- سرگودھا: نہروں، دریاؤں میں نہانے پر پابندی کی خلاف ورزی، 59 افراد گرفتار
- کرن جوہر نے شاہ رخ خان سمیت کئی اہم شخصیات کو ’ان فالو‘ کیوں کیا؟
- DUI کی گرفتاری کے بعد برٹنی سپیئرز کی زندگی کیسے بدل گئی
- جان ٹراولٹا نے بیٹی ایلا کو ‘پروپیلر ون وے نائٹ کوچ’ میں متعارف کرایا
- سرگودھا: گھریلو ناچاقی سے تنگ خاتون نے خودکشی کر لی، والد کا سسرالیوں پر تشدد کا الزام
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔