بیجنگ (ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت ایک اسٹریٹجک ٹیکنالوجی ہے جو تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کے ایک نئے دور کی قیادت کرتی ہے، اور نئی صنعت کاری کے لیے ایک اہم محرک ہے۔ چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 18 تاریخ کو بتایا کہ چین میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی تعداد 4500 سے تجاوز کر گئی ہے۔
چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترجمان تاؤ چھینگ نے کہا کہ اگلا قدم الگورتھم اور کمپیوٹنگ پاور سمیت دیگر بگ ماڈل بنیادی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر، سمارٹ چپس، بگ ماڈل الگورتھم اور فریم ورک سمیت کلیدی ٹکنالوجیز اور مصنوعات کی پیش رفت کو تیز کیا جائے گا۔
تاؤ چھینگ نے کہا کہ کلیدی صنعتوں کے لیےمصنوعی ذہانت کے ساتھ نئی صنعت کاری کو بااختیار بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ مینوفیکچرنگ کے پورے عمل میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے اطلاق کو گہرا کیاجائے، اور آر اینڈ ڈی، پیداوار، خدمات، انتظام میں ذہانت کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر کیا جائے گا۔
Trending
- جیکولین کو چھوڑنے کی منتیں کرتی تھیں؛ چندرشیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط سامنے آگیا
- پمز میں چیف ٹیکنیشن کی بھرتی روک دی گئی، نوٹس جاری
- سہ فریقی ٹی20 سیریز، نمیبیا نے جنوبی افریقہ کو 18 رنز سے ہرادیا
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔