فلپائن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیا ۔پریس کانفرنس میں یہ سوال کیا گیا کہ حال ہی میں فلپائن کی حکومت کے متعدد سینئر عہدیداروں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ مارکوس انتظامیہ نے چین کے ساتھ رینائی ریف کے انتظام کے بارے میں کوئی اتفاق رائے طے کیا ہے ۔ اس پر آپ کا کیا تبصرہ ہے؟
ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ بات چیت اور مشاورت کے ذریعے چین اور فلپائن کے درمیان سمندری اختلافات کو مناسب طریقے سے منظم کرنے کے لئے پرعزم رہا ہے ، اور اس مقصد کے لئے مسلسل کوششیں کی ہیں ، اور” جینٹلمین ایگریمنٹ ” ان کوششوں کا ایک ٹھوس نتیجہ ہے۔ سمندری صورتحال کو پرسکون کرنے پر دونوں سربراہان مملکت کے اہم اتفاق رائے کے مطابق ، چینی فریق اور فلپائن کا مغربی ملٹری ریجن اس سال کے اوائل میں بار بار بات چیت کے بعد رینائی ریف کے انتظام اور کنٹرول کے لئے ایک “نئے ماڈل” پر پہنچ گئے۔
یہ انتظام اعتماد سازی کا ایک اقدام ہے جس کا مقصد اختلافات کو سنبھالنا، تنازعات سے بچنا اور امن برقرار رکھنا ہے، قطع نظر اس کے کہ ان کے متعلقہ خود مختار موقف کچھ بھی ہوں۔ فلپائن کے مغربی ملٹری ریجن نے بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ “نئے ماڈل” کو فلپائن کے چین آف کمانڈ کی تمام اہم شخصیات نے منظوری دے دی ہے، جن میں وزیر دفاع اور قومی سلامتی کے مشیر بھی شامل ہیں۔ چینی فریق کے پاس مذکورہ بالا مواصلات اور مذاکراتی عمل کا تفصیلی اور مکمل ریکارڈ موجود ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ چین رینائی ریف کی صورت حال سے نمٹنے، فلپائن کے ساتھ ذمہ دارانہ انداز میں بات چیت اور مواصلات کو برقرار رکھنے کے لئے پرعزم رہا ہے اور دونوں فریق متعدد مواقع پر داخلی مفاہمت اور انتظامات تک پہنچے ہیں ۔ ہمیں پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ مارکوس انتظامیہ نے بار بار اس بات کی تردید کیوں کی ہے کہ رینائی ریف کے انتظام اور کنٹرول پر چین کے ساتھ ایک مفاہمت اور انتظام طے کیا گیا ہے؟
فلپائن کا محکمہ دفاع مذاکرات و مشاورت کے ذریعے چینی فریق کے ساتھ سمندری اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے سے انکار کیوں کرتا ہے؟ اگر یہ کہا جاتا ہے کہ ” جینٹلمین ایگریمنٹ ” سابقہ فلپائنی انتظامیہ اور چینی فریق کے درمیان ہوا تھا، تو “نیا ماڈل” موجودہ فلپائن کی حکومت اور چینی فریق کے درمیان طے پایا تھا، اور یہ عملی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ اختلافات سے بچا جا سکتا ہے تو کیوں فلپائن اس ماڈل کو مسترد کرنے لگا ہے؟ کیا اختلافات کو سنبھالنا اور تنازعات سے بچنا مخصوص قوتوں کے مفادات کے خلاف ہے؟
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔