بیجنگؒسی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں پانچویں چائنا- پاکستان فارن منسٹرز اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے بعد پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈارکے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
ایک رپورٹر نےامریکہ کی جانب سے چین پر عائد حالیہ یکطرفہ پابندیوں اور بھاری محصولات کے حوالے سے سوال کیا ۔
اس کے جواب میں وانگ ای نے کہا کہ کچھ عرصے سے امریکہ نے چین پر یکطرفہ پابندیاں عائد کر رکھی ہیں تاکہ چین کی معمول کی معاشی، تجارتی اور سائنسی و تکنیکی سرگرمیوں کو دبایا جا سکے۔ یہ آج دنیا میں سب سے نمایاں غنڈہ گردی ہے! اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں کچھ لوگ اپنی یک قطبی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ امریکہ کا بے ایمانی سے چین کو دبانا یہ ثابت نہیں کرتا کہ امریکہ مضبوط ہے، بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ خود اعتمادی کھو چکا ہے، اپنے مسائل خود حل نہیں کر سکتا اور بین الاقوامی پیداوار اور سپلائی چین کے معمول کے آپریشن کو مزید نقصان پہنچائے گا۔ اس سے چین کی ترقی اور احیا نہیں رکے گا بلکہ 1.4 ارب چینی عوام کو مزید محنت کرنے کی ترغیب ملے گی۔
وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ یکطرفہ اقدامات اور تحفظ پسندی وقت کے ترقی کے رجحان کے منافی ہیں اور تاریخ کے پہیے سے کچل دیے جائیں گے۔ عالمی معیشت کی بحالی کے اس نازک موقع پر عالمی برادری کو امریکہ سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ دنیا کے لیے نئی مشکلات پیدا نہ کرے۔
Trending
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
- سرکاری سکولوں میں 17لاکھ طلبا کے ب فارم نمبر غلط یا غائب ہونے کا انکشاف
- کرینہ کپور کے ایئرپورٹ تنازع نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی
- منطقی طور پر اس وقت امریکا اکیلے پن کا شکار ہے، دفاعی تجزیہ کار
- آشا بھوسلے کی آخری رسومات میں کون سی اہم شخصیات نے شرکت کی؟
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔