اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مبارک نظر ثانی کیس سے متعلق بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔
مبارک ثانی نظرثانی کیس سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنے وضاحتی اعلامیے میں کہا ہے کہ آئین شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے، اظہار رائے کی آزادی کو اسلام کی عظمت یا ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے جس کی اسلام نے ممانعت کی ہے، آئین و قانون میں بھی ایسی ہنگامی آرائی کی اجازت نہیں ہے۔
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔