اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مبارک نظر ثانی کیس سے متعلق بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔
مبارک ثانی نظرثانی کیس سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنے وضاحتی اعلامیے میں کہا ہے کہ آئین شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے، اظہار رائے کی آزادی کو اسلام کی عظمت یا ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے جس کی اسلام نے ممانعت کی ہے، آئین و قانون میں بھی ایسی ہنگامی آرائی کی اجازت نہیں ہے۔
Trending
- پمز میں چیف ٹیکنیشن کی بھرتی روک دی گئی، نوٹس جاری
- سہ فریقی ٹی20 سیریز، نمیبیا نے جنوبی افریقہ کو 18 رنز سے ہرادیا
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔