by Rao Imran Suleman
Rao Nama

میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان

کراچی(پی این پی) میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے کیس سے متعلق مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل ’’ اے آر وائی نیوز‘‘ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن کی کارروائی کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ واقعے کے حقائق سامنے لانے کے لیے اخبارات میں اشتہارات شائع کیے جائیں گے، جبکہ معلومات کی فراہمی کے لیے ایک آفیشل ای میل ایڈریس اور واٹس ایپ نمبر بھی جاری کیا جائے گا۔

جسٹس عمر سیال نے کارروائی کے دوران کہا کہ اشتہار شائع کیا جائے گا تاکہ جس کے پاس بھی میر رضا کے قتل سے متعلق کوئی معلومات ہوں وہ رابطہ کر سکے، اور اہم معلومات دینے والے کو ایک لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔

کمیشن نے یہ بھی حکم دیا کہ اس مقام پر نوٹس آویزاں کیے جائیں جہاں میر رضا کی لاش ملی تھی تاکہ چشم دید گواہ یا متعلقہ معلومات رکھنے والا شخص کمیشن سے رابطہ کر سکے۔

واضح رہے کہ میر رضا 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر میں ملی تھی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے خودکشی قرار دیا تھا، تاہم دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے ثابت ہوا کہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔

 سندھ حکومت کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، حالانکہ اہل خانہ نے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

جمعہ کے روز ہونے والی سماعت کے دوران کمیشن کو بتایا گیا کہ میر رضا 28 جولائی کو صبح تقریباً 4 بجے گھر سے نکلے تھے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ساڑھے چار بجے تک زندہ تھے۔ اگلے روز دن گیارہ بج کر پچاس منٹ پر مسجدِ خضرا کے قریب ان کی لاش ملی۔

مقتول کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ لاش ملنے سے قبل ہی ایف آئی آر درج ہو چکی تھی، اور ڈاکٹر اسامہ نے والد کی موجودگی میں پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نرسری کے ملازمین یاسر اور قیصر نے لاش دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی۔

جوڈیشل کمیشن نے واقعے کے دونوں نرسری ملازمین، جائے وقوعہ پر موجود ایدھی رضاکار، اور سب سے پہلے لاش دیکھنے والے پولیس افسران کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمیشن نے کیس سے وابستہ پولیس افسران، ڈاکٹروں اور تمام دستیاب شواہد کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں، جبکہ سندھ حکومت کے فوکل پرسن نے تمام مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جسٹس عمر سیال نے مقتول کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ کمیشن حقائق سامنے لانے اور کارروائی میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی 30 دن میں مکمل کی جائے گی اور جوڈیشل کمیشن میں جو کچھ ہوگا سب کے سامنے ہوگا، کچھ بھی چھپایا نہیں جائے گا اور کوئی بھی شخص کارروائی کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ جسٹس عمر سیال نے مقتول کے والد میر حسین علی سے کہا کہ وہ کمیشن پر اعتماد رکھیں کیونکہ یہ معاملہ صرف میر رضا کا نہیں بلکہ ایسے تمام افراد کا ہے۔



PNP

Comments are closed.