اسلام آباد:چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہماری عدلیہ نے ارشد ندیم کی طرح ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا ہے، ہماری عدلیہ ناصرف عدالت چلا سکتی ہے بلکہ ڈیم بھی بنا سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا ارشد ندیم کو پوری قوم کی جانب سے مبارکباد دینا چاہتا ہوں، ملک میں کھیلوں کے فروغ کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، لیاری کے بچے فیفا ورلڈ کپ جیت کر لاسکتے ہیں، وفاق، وزیر کھیل اور صوبائی وزراء کے ساتھ بیٹھ کر انڈوومنٹ فنڈ قائم کرے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا آج کل ملک میں نفرت کی سیاست عروج پر ہے، جس قسم کی تقسیم آج کل سیاست میں ہے ایسی تقسیم کبھی نہیں دیکھی، پاکستان کے عوام معاشی بحران سے گزر رہے ہیں، ملک مین لا ینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، ٹی وی کھولیں تو ہم ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا سیاسی کارکن بنگلا دیش کے حالات بہت غور سے دیکھ رہے ہیں، بنگلا دیش میں شہیدوں کے کوٹے سے متعلق احتجاج ہوا، احتجاج شروع ہوا تو حسینہ واجد کو حکومت چھوڑنا پڑی، ہمیں عوام کے اصل مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے، پاکستان کے مسائل کچھ آپ کے ہاتھ میں ہیں کچھ آپ کے ہاتھ میں نہیں۔
اداروں کے درمیان فاصلہ نظر آ رہا ہے، ایک ادارہ بار بار مداخلت کرتا ہے، عدلیہ کی تاریخ سب کے سامنے ہے، ہماری عدلیہ نے ارشد ندیم کی طرح ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا ہے، ہماری عدلیہ اتنی قابل ہے کہ نہ صرف عدالت چلاتی ہے ڈیم بھی بنا سکتی ہے۔
Trending
- گاڑیوں کے سائیڈ شیشے چوری کرنے والا خاندانی گروہ گرفتار
- ایران نے فٹبال ٹیم کی کپتان کے منجمند اثاثے بحال کر دیے
- ٹریلر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، 3 افراد جاں بحق
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
- سرکاری سکولوں میں 17لاکھ طلبا کے ب فارم نمبر غلط یا غائب ہونے کا انکشاف
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔